تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 139
مکتوب موصول ہوا :- زار استقلال اور ہمت سے اور جوانمردی کے ساتھ ڈٹے رہو اور اس کو فتح کرنا آپ کا فرض ہے۔بہر حال جب تک حضور کا حکم نہ ہو آپ قادیان کو چھوڑ کہ یہاں بالکل نہ آئیں۔مجھے قادیان کی یاد بہت ستاتی ہے اور یہاں دل اُداس رہتا ہے۔بالکل دل نہیں لگا حضور کافی کمزور ہو چکے ہیں۔واقعی قادیان کے غم میں ان کی کمر خمیدہ ہوچکی ہے۔کاش حضور کے غم کو دور کر سکتے “ (۲۴ امضاء / اکتوبر ۱۳۳۲۶ ش) ۶۱۹۴۷ ۱- چوہدری حاجی اللہ بخش صاحب چندر کے سنگولے ضلع سیالکوٹ نے اپنے بیٹوں مکرم چوہدری محمد احمق صاحب سابق مبلغ بیین و مکرم بشیر احمد صاحب کے نام حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا۔وو میرے پیارے لخت جگر محمد اسحق و بشیر احمد اللہ تعالیٰ ہر آن تم دونوں کا حافظ و ناصر ہو۔آمین السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کاتہ مدت سے تمہارا کوئی خط نہیں ملا۔آج ہم ۲۴ کو عزیز محمد عبد اللہ صاحب کیپٹن ٹرک لے کہ یہاں اپنی بیوی کو لینے آئے۔ان سے دارالا علاق کے حالات معلوم ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تلاشیاں لے کر پہلے اہل قادیان کو نہتہ کیا۔اور پھر سکھوں نے حملہ کیا اور پولیس اور ملٹری نے ہمارے احمدیوں کا قتل عام کیا اور دو تشو سے اوپر احمدی شہید ہو کہ جنت میں جا پہنچے۔سُنا ہے کہ حملہ دار الرحمت پر ہوا۔اور تم دونوں بھی دارالرحمت میں تھے۔اگر تم شہید ہو گئے ہو تو اپنی مراد کو پہنچ گئے ہو۔اس صورت میں میں عثمان غنی کو بھی جلدی قادیان بھیج دوں گا۔اگر تم زندہ ہو تو مجھے یقین ہے کہ تم نے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا ہو گا۔تم نے احمدی باپ سے پورش پائی ہے اور احمدی ماں کا دودھ پیا ہوا ہے۔دارالامان سے پیارا ہمیں اور کچھ لہ چوہدری محمد اسحاق صاحب واقف زندگی کے چھوٹے بھائی جو چندر کے منگولے سے نہایت خطرناک حالات میں دوسرے ہیں احمدیوں کے ساتھ پیدل قادیان پہنچے (مرتب) سے میجر محمد عبد اللہ صاحب نہار مراد ہیں (مرتب) چوہدری محمد اسحاق صاحب کے تیسرے بھائی کا نام ہے جنہیں ان کے والد ماجد اپنے دو بیٹوں کی شہادت کے بعد قادیان بھیجنے کا فیصلہ فرما رہے تھے ؟