تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 132
۱۳۲ تو ہمیشہ ہمیش مخدا کے نیک بندوں پر آیا ہی کرتے ہیں لیکن اگر یہ بستنی دارالامان نہ ہوتی تو یقیناً آج اس زیر دست زلزلہ کے وقت ہم قادیان کے اندر موجود نہ ہوتے اس وقت قادیان کی آبادی تین مقدس جگہوں پرمشتمل ہے۔اول مسجد اقصی ، دوم مسجد مبارک سوم بہشتی مقبرہ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جن کے لئے ہر احمدی اپنا نون خوشی سے بہانے کے لئے تیار ہے۔" اس لئے ہمارے عزیزوں اور بزرگوں کو چاہیے کہ ہمارے متعلق بالکل کسی قسم کا فکر نہ کریں اور دعاؤں پر زور دیں۔ہاں کبھی کبھی اگر ہو سکے تو خیر یت کا پیغام ارسال فرما دیا کریں تاکہ ہم کو آپ کی نسبت بھی یہ معلوم ہوتا رہے کہ آپ بھی مرکز کی حفاظت کے لئے اپنے دل میں کچھ تڑپ رکھتے ہیں اور آپ کی تحریروں سے مہارا ایمان تازہ ہو اور خدمت دین کے لئے سچا جوش پیدا ہوے بیرون قادیان کے احمدیوں کی جہاں شعائر اللہ کی حفاظت کا فریضہ بجالانے والے احمدی اپنی بھان کی بازی تک لگائے بیٹھے تھے وہاں ان کے اقرباء مرکز احمدیت سے بے پناہ مقیم کے دل میں خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بوڑھے ہوں یا جوان، مرکز احمدیت کے لئے بے پناہ عقیدت موجزن تھی اور وہ اپنی بے شمار مشکلات کے باوجود نہ صرف اپنے عزیزوں کا قادیان میں رہنا ان کے لئے باعث برکت و سعادت اور اپنے لئے موجب صد افتحی سمجھتے تھے بلکہ اس نازک موقعہ پر قادیان کی پیاری بستی سے اپنی دُوری و مہجوری کا غم انہیں کھائے جا رہا تھا۔اُن کے بس میں ہوتا تو وہ اُڑ کر دیا جبیب میں پہنچتے اور اپنے جسم کا ذرہ ذرہ اس کی گلیوں پر قربان کر دیتے۔مجاہدین قادیان کے اعزہ و اقارہ کے ان دلی جذبات کی عکاسی ان خطوط سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے قادیان لکھے اور جن میں سے بعض کے اقتباسات بطور نمونہ درج ذیل کئے بجاتے ہیں۔محترم ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم رسابق امیر المجاهدین ملکانہ) کراچی نے اپنے بیٹے محروم یونس احمد ما سلیم کو حسب ذیل خط لکھا :- الفضل" ۱۶ نبوت / نومبر ۳۲ بیش صفحه ۳ :