تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 126
۱۲۶ بند نہ ہوا تو یہ راستہ میں ہی ختم ہو جائے گا۔میں نے پھر بھی انکار کیا۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب چلے گئے اور ہماری کار میوہسپتال کی طرف روانہ ہو گئی۔راستہ میں کار کے ہچکولوں کی وجہ سے مجھے کبھی کبھی نا قابل برداشت درد ہوتی تھی۔معلوم نہیں رات کتنے بجے ہم میوہسپتال پہنچے۔ڈاکٹر صاحب نورا زخم کو دیکھنے کے لئے آئے۔زخم دیکھ کر فرمانے لگے اس میں کچھ تو گولی کے ذرات رہ گئے ہیں اور کچھ زہر کھیل چکا ہے اس لئے اس وقت پٹی نہیں کی جائے گی۔البتہ کل صبح کو اس کا اپریشن ہو گا۔اس کے بعد پھر مجھے معلوم نہ ہوا کہ کس طرح اور کب مجھے سرجیکل وارڈ میں لایا گیا۔جب آنکھ کھلی تو میں نے مکرم ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب کو اپنے سرہانے کھڑے دیکھا اور ان کے پاس چند رنگ آرڈر لی سٹر پھر پکڑے ہوئے کھڑے تھے۔میں نے بھان لیا کہ اب مجھے اپریشن کے لئے لے بجا رہے ہیں۔میں نے ڈاکٹر صاحب سے نہایت انکساری سے عرض کی کہ خدا کے لئے میری ٹانگ نہ کٹوائیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بغیر ٹانگ کٹنے کے میرا بچنا محال ہے تو بیشک مجھے مرنے دیجئے لیکن ٹانگ نہ کٹوائیں۔بھلا ڈاکٹروں پر بھی کسی مریض کی لجاجت اثر انداز ہو سکتی ہے۔وہ تو ڈیوٹی کے بندے ہیں خواہ کسی کی ٹانگ کٹے یا بازو ان کی بلا ہے۔جب ڈاکٹر صاحب نے میری یہ دردمندانہ گذارش شنی تو مسکرا کر فرمانے لگے گھبراؤ نہیں اللہ تعالے خیر کرے گا۔اس کے بعد مجھ پر ایسی غشی طاری ہوئی کہ مجھے قطعاً معلوم نہ ہو سکا کہ کب میرا اپریشن ہوا۔اور کس وقت مجھے چار پائی پر واپس لایا گیا۔جب مجھے قدرے ہوش آئی اور میں نے آنکھ کھولی تو اپنے ارد گرد چند ڈاکٹر ، چند نرس اور بعض اپنے عزیز رشتہ داروں کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ان میں اپنے خسر محترم مولوی عطا محمد صاحب کو بھی دیکھا۔میں نے اُن سے دریافت کیا کہ کیا میرا اپریشن ہو چکا ہے۔فرمانے لگے لگے جی ہاں ہو چکا ہے۔پھر میں نے پوچھا کیا میری ٹانگ تو نہیں کاٹی گئی۔انہوں نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے تمہاری خواہش اپنے خاص فضل سے پوری کر دی۔ورنہ ٹانگ کاٹنے کے لئے سارے اوزار یعنی آرین دیگر ضروری سامان تیار رکھے ہوئے تھے۔اس سے مجھے کافی اطمینان ہوا۔اور اپنے دل میں مولا کریم کا سجدہ شکر بجا لایا۔پھر انہوں نے له به مهمانی مسیح موعود برا در ماسٹر ۱۰ احمد صاحب ي جدا وناقل ) -