تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 125 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 125

۱۲۵ لاری بھی آنِ واحد میں ہوا میں اُڑنے لگی۔مجھے اس کا قطعاً علم نہ تھا کہ بعض لاریوں میں دو پٹرول ٹینکیاں ہوا کرتی ہیں۔ایک ظاہر اور دوسری پوشیدہ۔اس علم کا انکشاف بعد میں ہوا جبکہ میں ہسپتال میں تھا۔ابھی تک میرے زخم سے خون کی دھاریں اُبھر رہی تھیں۔زیادہ خون نکلنے کی وجہ سے میں سخت نڈھال اور کمزور ہو چکا تھا۔فرنٹ سیٹ کی چھت پر میں نے اپنا سر رکھا اور پھر اس کے بعد ایسی غشی طاری ہوئی کہ واگہ پہنچ کر میری آنکھ کھلی۔جب آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو مکرم مرزا محمد صادق صاحب جو اس وقت مکرم میاں بشیر احمد صاحب کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے کی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے دیکھا۔میں نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ آپ کیا کرنے لگے ہیں ؟ فرمانے لگے تمہارے لئے ایمبولنس کار آئی ہوئی ہے تمہیں میو ہسپتال لے جا رہا ہوں۔اس جگہ تشکر کے طور پر یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر مرزا صاحب نے جو میری خدمت کی ہے وہ تا قیامت بھلائی نہیں جا سکتی۔جزاھم اللہ احسن الجزاء۔انہوں نے نہایت احتیا اور آرام کے ساتھ مجھے ایمبولنس کار میں لٹا دیا۔اس وقت زخم شدہ پاؤں میں مجھے شدید درد محسوس ہونے لگی۔میں نے مرزا صاحب سے عرض کی کہ وہ میرے پاؤں سے بوٹ اُتار دیں لیکن پاؤں سوجنے کی وجہ سے ٹوٹ نہیں اتر رہا تھا۔پھر میں نے جیب سے چاقو نکال کر ان کو دیا اور کہا کہ بوٹ کاٹ کر نکال دیں۔انہوں نے فوراً ہی ٹوٹ کاٹ کر نکال دیئے اور اس طرح مجھے کافی حد تک تسکین ہوئی۔تھوڑی دیر کے بعد ایک سکھ ڈاکٹر آئے۔اُن کے ہاتھ میں کچھ مرہم پٹی تھی۔میرے زخم کو جھک کر دیکھنے لگے میں نے ان سے پوچھا۔آپ کیا کرنے لگتے ہیں ؟ کہنے لگے مرہم پٹی کرنے لگا ہوں میں نے کہا۔اس کی کوئی ضرورت نہیں۔آپ پچھلے جائیں اور میرے زخم کو ہاتھ نہ لگائیں کہنے لگے۔خان صاحب خون کافی بہر رہا ہے اور اس حالت میں آپ کا ہسپتال پہنچتا ناممکن ہے۔میں نے کہا۔پروا نہیں۔وہ کوئی رحمدل ڈاکٹر معلوم دیتے تھے اس لئے انہوں نے مرزا صاحب کو کہا۔آپ اپنے ہاتھوں سے اس کی مرہم پٹی کریں کیونکہ اگر خون