تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 124 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 124

۱۲۴ وقت نہ مجھے اپنی بیوی بچوں کا خیال تھا نہ عزیزیہ رشتہ داروں کا احساس اور نہ ہزاروں روپیہ کے کاروبار کے ضائع ہونے کی فکر تھی۔ہاں صرف یہ احساس سنتائے بھا رہا تھا کہ جب ہمارے پیارے امام کو ہماری اس طرح موت کی خبر پہنچے گی تو حضور کو کتنی تکلیف اور قلق ہو گا۔انہی احساسات میں میں گم تھا کہ اچانک سامنے کی طرف سے تین ملٹری ٹیک اپنی طرف آتے ہوئے دیکھے اور یہ ٹرک مین اس جگہ آکر رک گئے جہاں ہمارا راستہ بڑے بڑے لوہے کے پہیے رکھ کر مسدود کیا ہوا تھا۔چونکہ میں لاری پر نہیں تھا وہ دوسرے نمبر ا پر تھی اس لئے مجھے ان ٹرکوں میں میٹھے ہوئے لوگوں کی ایک ایک حرکت صاف نظر آرہی تھی۔میں نے دیکھا کہ اگلے اور پچھلے ٹرک میں بیٹھے ہوئے چند مسلح فوجیوں نے رائفلیں اٹھائیں اور اُن کا رُخ درمیان والے ٹرک رجس میں ہندو سکھ مرد اور عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، کی طرف پھیر دیا۔اس پر ان ہندو سکھوں نے مورچے والوں کی اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے منت سماجت کی کہ وہ ٹائمنگ بند کر دیں۔واقعہ یوں ہوا تھا کہ لاہور سے ہندو سکھ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ایک ٹرک پاکستانی فوجی دستہ کی نگرانی میں بٹالہ کایا جالنہا تھا۔اس فوجی دستہ نے جب ہمارا یہ حشر دیکھا تو اس نے ہند و پناہ گزینوں کا غلوں سے ڈرا دھمکا کر کہا کہ فائمنگ بند کراؤ ورنہ تم سب کو ابھی یہاں ڈھیر کر دیا جائے گا۔چنانچہ ان کی یہ تجویز کار آمد ثابت ہوئی اور فائرنگ بند ہو گئی۔جونہی فائرنگ بند ہوئی ایک خوبصورت جسیم نوجوان نے جو شکل و شباہت سے اس دستہ کا آفیسر دکھائی دے رہا تھا فوراً کاری سے اُتر کر سڑک پر سے دو پہیے ہٹا دیئے اور اُنگلی کے اشارے ہمارے ڈرائیوروں کو فوراً نکل جانے کو کہا۔لبس پھر کیا تھا اشارہ ملتے ہی ہماری انگلی لاری ہوا سے باتیں کرنے لگی۔لاری کو روانہ ہوتے دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ میرے سامنے ہماری لاری کا پٹرول گر کر ضائع ہو چکا تھا۔اور بغیر پیٹرول کے لاری چل کس طرح سکتی تھی۔اور پھر میرے لئے یہ اور بھی قابل افسوس امر تھا کہ ہماری وجہ سے باقی تمام پچھلی لاریاں رکی رہیں گی لیکن اللہ کی شان نرالی ہے۔سچ ہے جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے۔آپ میری حیرت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جب میں نے دیکھا کہ ہماری