تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 123 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 123

۱۲۳ یہ فائمنگ کتنی دیر رہی۔اس کا صحیح اندازہ لگانا ناممکن تھا۔اور سچ پوچھئے اس وقت اندازہ لگانے کی ہوش کس کو تھی جب زندہ رہنے کی امیدیں مٹ چکی تھیں تو اندازہ لگا کر کیا کرتے۔یا الہی ! تیرے محبوب کے غلاموں کے لئے یہی موت مقدر تھی ابھی یہ فقرہ زبان پر ہی تھا کہ میری ٹانگ کو اس زور کا جھٹکا لگا جیسے بجلی کی زیرہ دوست کرنٹ اس میں داخل ہوگئی جب ٹانگ پر نظر پڑی تو خون کی موٹی موٹی دھاریں فوارے کی طرح پھوٹ رہی تھیں اور شلوار خون سے لت پت ہو چکی تھی۔تب مجھے یقین ہوا کہ گولی نے اپنا کام کر لیا ہے۔گولی دائیں ران کے اُوپر کے حصے میں سے ایک طرف پیوست ہو کر دوسری طرف ایک بہت بڑا زخم کر کے نکل گئی۔اگر انہی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو میں ضرور سڑک کے اُوپر ڈھیر ہو جاتا اور بعد میں جو میرا حشر ہوتا وہ ظاہر تھا۔ابھی زخمی ہونے کے احساس سے مکیں فارغ ہی نہ ہو ا تھا کہ ایک اور گولی میری اسی ٹانگ کے نزدیک سے گزرتی ہوئی ہماری لاری کی پٹرول ٹینکی میں پیوست ہو گئی جس سے سارا پٹرول اسی وقت زمین کی نذر ہو گیا۔آپ یقین جانئے کہ مجھے اپنے زخمی ہونے کا اس قدر صدمہ نہ ہوا جس قدر پٹرول کے ضائع ہونے سے ہوا تھا۔کیونکہ اس سے زندہ بچنے کی امید کی آخری کرن بھی ختم ہو گئی۔آپ کے دل میں یہ خیال ضرور گذرا ہوگا کہ میری ٹانگ جبکہ لاری کی موٹی پھادر کے پیچھے محفوظ جگہ پر کھتی تو گولی وہاں کس طرح پہنچی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ فرنٹ سیٹ میں ڈاکٹر میجر منیر احمد صاحب خالد فوجی یونیفارم میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ میاں بشیر احمد صاحب پاسپورٹ آفیسر بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ان دونوں کا انہوں نے نشانہ کیا تو گولی ان دونوں کے بازوؤں کے درمیان میں سے شکل گولاری کی چادر کو چیرتی ہوئی میری ٹانگ کو بری طرح زخمی کرنے کا موجب بن گئی۔گولیاں ابھی تک بارش کی طرح برس رہی تھیں اور سات ہزار سکھ ہند و جو اس سے پیشتر کچھ فاصلے پر ہمارے گرد و پیش کھڑے تھے۔اب ہمارے قریب ہونے لگے۔دیکھنے میں وہ انسان تھے مگر حقیقت میں وہ خونخوار درندے تھے۔ان کی آنکھوں سے آگ برس رہی تھی۔کیا بتاؤں وہ منظر کس قدر خوفناک تھا ؟ بس یہی سمجھ لیجئے کہ موت اپنے ہیبت ناک جبڑے کھولے ہوئے خراماں خراماں ہماری طرف آرہی تھی موت یقینی تھی۔اس