تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 116
IM ماه افتاده اکتوبر برش کا ایک واقعہ (جسے نو نہالان احمدیت کی جانبازی و فداکاری کا قابل فخر اور مثالی نمونہ سمجھنا چاہیئے الخاص طور پر قابل ذکر ہے۔خان محمد عیسی جان صاحب (حال سکرٹری اصلاح و ارشاد کوئٹہ) اس سانحہ ہو شریا کا آنکھوں دیکھا حال درج ذیل الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایده الله بنصرہ العزیز نے حکومت پاکستان کی اجازت سے ایک مرتبہ نہیں لاریاں کرایہ پر لے کر قادیان کبھیجوائیں۔ان لاریوں کے ساتھ پہچان احمدی تھے جن میں کوئٹہ کے احباب میں ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب شہید ، ڈاکٹر میجر منیر احمد صاحب ،خالد، جناب شیخ محمد اقبال صاحب ،چوہدری منور علی صاحب در ولیش، حوالدار محمد ایوب صاحب درویش، میاں بشیر احمد صاحب ایم۔اسے ، میاں احمد دین صاحب بٹ ، میاں کریم بخش صاحب ، مرزا محمد صادق صاحب جہلمی ، تعال عبد الرحمن خان صاحب ایجنٹ اور خاکسار بھی شامل تھے۔ہم میں سے اکثر حفاظت مرکز کے لئے بھا رہے تھے۔بعض اپنے رشتہ داروں کو لانے کے لئے گئے تھے۔۲ اکتوبر نہ کی صبح کی نماز کے بعد حضور نے اس مختصر سے قافلہ کو بعض ضروری ہدایا دینے اور صبر و استقلال کی تلقین کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس قافلہ کے ساتھ کوئی خطرناک حادثہ پیش آنے والا ہے۔اللہ تعالے تمہارا حافظ و ناصر ہو۔اس کے بعد حضور نے لمبی اور پر سوز دعا کرائی۔وہ دکھاتی یا عرش کو لرزا دینے والا زلزلہ ! ہماری ہچکیاں بند گئیں اور آہ و بکا سے آسمان گونج اُٹھا۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کے ساتھ ہمارا یہ قافلہ منزل مقصود کی طرف روانہ ہوا۔کوئی دس بجے کے قریب ہم پاکستان کی سرحد کو عبور کر کے ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو گئے۔یہاں ملٹری چوکی پر ہمارا قافلہ رک گیا۔کچھ دیر کے بعد پوچھ گچھ اور تفتیش ہونے لگی تستی پانے کے بعد انہوں نے ہمیں روانگی کا حکم دیا۔یہ دو پہر کا وقت تھا۔آسمان پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ہر طرف سکوت طاری تھا۔ہماری لاریاں چالیس پینتالیس میل کی رفتار سے بھا رہی تھیں۔سڑک کے دونوں اطرات حد نظر تک ویران ہی ویران دکھائی دے رہی تھیں۔مستقبل کے عجیب و غریب تصورات