تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 108 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 108

1۔A شت اس جگہ اُن احمدی مبلغین کا ذکر کرنا ضروری ہے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی اور قیام پاکستان کے پہلے سال نہایت نا مساعد اور پُر خطر ایام میں اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند کئے رکھا اور ناقابل برشورات مصیبتوں کے دوران بھی نہایت استقلال کے ساتھ اشاعت حق میں سرگرم عمل رہے۔بھارت کے مبلغین مولانا عبداللہ صاحب مالا باری (جنوبی ہند)، مولوی احمد رشید صاحب مالا بارا (مالابار ) مولوی محمد سلیم صاحب (کلکتہ، مولوی محمد اسمعیل صاحب دیال گڑھی دیکھنی) مولوی بیشیر احمد صاحب (کلکته مولوی سمیع اللہ صاحب دھرم پر کاش (بہار) حکیم محمد دین نما (بمبئی) مولوی عبد المالک خان صاحب (حیدر آباد دکن) مولوی فضل الدین صاحب (آگره حیدر آباد) ان مبلغین میں سے مولوی محمد اسمعیل صاحب دیا گڑھی اور مولوی عبد المالک خاں صاحب کچھ عرصہ تک بھارت میں کامیابی سے خدمت سلسلہ کا فریضہ ادا کرنے کے بعد پاکستان میں آگئے جہاں آئینک تبلیغ دین میں مصروف ہیں۔پاکستان کے مبلغین حضرت مولانا غلام رسول صاحب را یکی پشاور) مولوی عبد الغفور صات ( (سرگودھا) مولوی نظل الرحمن صاحب (چنیوٹ) مولوی چراغ دین صاحب (مردان) شیخ عبد القادر صاحب (سابق سوداگر مل ) (لاہور) مولوی غلام احمد صاحب فرخ (سندھ) سید احمد علی صاحب (کراچی) سید اعجاز احمد صاحب ( بوگرا ) صاحبزادہ محمد طیب صاحب (مردان) صاحبزاده هیتر الله صاحب (اسماعیلہ) مولوی ابو الخیر محب اللہ صاحب (چٹا گانگ ڈھاکہ) مرزا حسام الدین صاحب لکھنوی (جھنگ) مولوی عبد الرحیم صاحب عارف (جھنگ) مولوی محمدحسین صاحب (جہلم گجرات) گیانی عباداللہ صاحب (گوجرانوالہ ) مباشہ محمد عمر صاحب (گوجرانوالہ) گیانی واحد حسین صاحب (را ہوالی) مولوی محمد احمد صاحب نعیم (کیمبل پور ) ان کے علاوہ مولوی احمد خاں صاحب نسیم انچارج تبلیغ مقامی قادیان جو ۹ مر تبوک ستمبر اسلام الله کو گرفتار کر لئے گئے تھے ، شہادت / اپریل ہر مہیش میں رہا کر دیئے گئے جس کے بعد اپنی گذشتہ روایات کے مطابق سلسلہ احمدیہ کی خدمات دینیہ میں مصروف ہو گئے۔ملہ یہ صاحبی احمدیت قبول کرنے سے پہلے آریہ ہو گئے۔بالآخر اخارا اکتو بر تار میش میں غیر مبائعین سے منسلک وگند