تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 105
۱۰۵ امیر المومنین تخلیفہ اسیح الثانی لاہور تشریف لے گئے اور وہاں سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو (جو قادیان میں بحیثیت امیر تمام امور کے منتظم تھے ، پیغامات بھیجے کہ قادیا میں جو لوگوں کی امانتیں ہیں لاہور بھجوائی بھائیں۔اس پر حضرت محمدوح نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ امانتیں لاہور لے بھائں۔ان دنوں حضرت خلیفہ ایسی لاہور سے ٹرک بھجوایا کرتے تھے جن میں قادیان کی مستورات اور بچے لاہور جاتے تھے مگر ان ٹرکوں میں لاہور بجانا کا رے دارد والا معاملہ تھا۔قادیان کے غیر احمدی لوگ بڑا بڑا کرایہ دے کہ ٹرک والوں سے جگہ لے لیتے تھے اور بہت سے احمدی بیگہ نہ پا کہ واپس آ جاتے تھے۔یہی حالت میری تھی۔میں صبح کو امانتوں کے ٹرنک دفتر نے حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے کی کو ٹی پر لاتا میگہ نہ ملتی تو شام کو واپس خزانہ صدر انجمن میں لے جاتا۔آخر ۲۰ ستمبر کو مجھے جگہ مل گئی اور مکیں یہ ٹینک لے کر قادیان سے روانہ ہوا۔جب ہم قادیان سے ایک میل باہر آئے تو اس کچھ بسوں والے قافلہ کو روکا گیا اور سامان اور ٹرنک وغیرہ چیک ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔اتنے میں میاں روشن دین صاحب زرگر میرے پاس آئے اور منت سماجت سے کہنے لگے کہ یہ میرا پارسل لا ہورے نہیں اس میں سونے کی تین سلاخیں ہیں میں نے مان لیا اور ان کا پارسل اپنے کیش بکس میں رکھ لیا۔اتنے میں ایک ڈوگرہ لیفٹیننٹ آ گیا اور سامان چیک کرنے لگا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس کیش بکس میں کیا رکھا ہے۔میں نے کہا کہ مجھے ایک شخص نے یہ کہد کو پارسل بطور امانت دیا ہے کہ اس میں تین سلاخیں سونے کی ہیں۔اس نے پارسل کھولا اور میری طرف مخاطب ہو کر کہا۔یہ دیکھ لیں میں آپ کی سونے کی سلاخیں آپ کو واپس دے رہا ہوں اور پھر بس کے اندر دوسرے سامان کو چیک کرنے لگا۔اس میں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے جیتی ٹرنک اور بڑے بڑے صندوق تھے۔ان میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔وہ جس صندوق کو کھولتا اُوپر سے نیچے تک چیک کرتا کہ کتابوں کے علاوہ کوئی اور چیز اسلحہ وغیرہ تو نہیں جب وہ دو تین ٹرنک دیکھ چکا اور اس کو اطمینان ہو گیا تو میری طرف آیا اور جہاں میرے والے امانتوں کے جیتی ٹرنک تھے ان کو دیکھ کہ از خود ہی کہنے لگا۔یہ بھی ریسرچ کا ہی سامان ہے اور اس نے قافلے کو بجانے کی اجازت دے دی۔بسیں روانہ ہوئیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کا