تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 104
وقد حضرت مولانا غلام رسول صاحب را نیکی (امیر و فد) مولوی غلام باری صاحب سیف صاحبزادہ محمد طیب صاحب ، بابو شمس الدین صاحب ( اس وفد کا حلقہ صوبہ سرحد مقرر کیا گیا تھا۔لے المختصر سیدنا المصلح الموعود کی ان تمام کوششوں کا مجموعی نتیجہ یہ بر آمد ہوا کہ جہاں دوسرے بہت نے مسلم مہاجرین سرکاری سرپرستی اور حکومت کے وسیع ذرائع کے باوجود ایک عرصہ تک بے خانماں ہے وہاں مشرقی پنجاب کی نوے فیصدی جماعتیں چند ماہ کے اندر اندر نہ صرف آباد ہوگئیں بلکہ مالی او تنظیمی رنگ میں پاکستان کی مقامی جماعتوں اور افراد کے دوش بدوش حصہ لینے لگیں۔حضرت سید نا المصلح الموعود جب سے ہجرت قادیان کی امانتوں کا لاہورمیں لانے کا انتظام کے بعد اہور تشریف لائے تھے اس فکرمیں تھے کہ جن لوگوں نے قادیان میں مرکز کے سپرد اپنی امانتیں کر رکھی تھیں وہ جلد سے جلد پاکستان میں پہنچ جائیں حالات سخت مخدوش تھے اور راستے پر خطر، مگر محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی خصوصی توجہ کی بدولت آخر ۲۰ تبوک استمبر رش کو حضور کی یہ دلی تمنا پوری ہوگئی جبکہ حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی یہ تمام امانتیں پاکستان کی طرف منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس ایمان افروز واقعہ کی تفصیل حضرت شیخ صاحب کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے :- اگست 1914ء میں تقسیم ملک ہوئی اور قادیان سے نکلنے کا سامان ہونے لگا یہ بڑی مصیبت کے دن تھے۔مگر خدا تعالے نے ہمارے دلوں پر اپنی رحمت کے مرہم کا بھانا رکھا۔حضرت له " الفضل " ۲۷ نبوت / نومبر ۳۳ مش صفحه ۵ کالم ۰۲ مولوی محمد سعید صاحب اور مانٹر فقیر اللہ صاحب کے علاوہ جو شریک و قد ہوئے ، اس نازک دور میں بیت المال کے مندرجہ ذیل انسپکٹروں نے جماعت کے مالی اور تنظیمی استحکام میں قابل قدر حصہ لیا اور سفر کی انتہائی مشکلات کے باوجود اپنے فرائض منصبی نہایت عمدگی سے ادا کرتے رہے :۔م سعید محمد لطیف صاحب -۲ پچوہدری محمد شجاعت علی صاحب ، ۳ چوہدری ظفر اسلام صاحب سید سعید احمد صاحب بنگالی - ماسٹر محمدولین صاحب ، - - سید اصغر حسین صاحب ، ، مولوی ے عبد الرحیم صاحب ملکانه - چوہدری محمد طفیل صاحب 9 - سید اعجاز احمد صاحب در پورٹ سالانہ صدر امین احمدیہ پاکستان ۱۳۲۳۲ ش صفحه ۲۳) +1986-1