تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 101 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 101

lot ان کی امداد کے لئے بھی وہاں کی جماعتوں کو فوراً توجہ کرنی چاہئیے۔اپنے زائد لستر ان کو دے دینے چاہئیں۔اسی طرح جو لوگ قادیان سے آرہے ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں ان کے لئے کپڑے بھیجوانے چاہئیں۔زیادہ کمبلوں ، لحافوں ، تو شکوں اور تکیوں کی ضرورت ہے چونکہ سردی روز بروز بڑھ رہی ہے اس کام میں دیر نہیں کرنی چاہئیے اور خواہ آدمی کے ذریعے۔جلد یہ چیزیں ہمیں بھیجوا دینی چاہئیں۔اس کے علاوہ میں جماعتوں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے ارد گرد کی منڈیوں وغیرہ میں اگر دوکانیں نکالنے کا موقعہ ہو ، ایسی دوکانیں جو غریب اور سیکس لوگ بغیر روپیہ کے بھاری کر سکیں تو ان کے متعلق بھی فوراً مجھے چپٹھیاں لکھیں تاکہ ایسے لوگوں کو جو تعلیم یافتہ ہیں اور تجارت کا کام کر سکتے ہیں ، " وہاں بھیجوا دیا جائے “ اے چیریں بھجوانی پڑیں بلو از ۳ حضرت امیر المومنین کے اس پر درد اور اثر انگیز پیغام نے پاکستان کی احمدی جماعتوں پر بجلی کا سا اشتہ کیا اور انہوں نے اپنے پناہ گزین بھائیوں کی موسمی ضروریات کو پورا کر دینے کی ایسی سر توڑ کوشش کی کہ انصار مدینہ کی یاد تازہ ہو گئی اور اس طرح حضر صلح موعود کی بر وقت توحید سے ہزاروں قیمتی اور معصوم جانیں موسم سرما کی ہلاکت آفرینیوں سے بچ گئیں۔مولانا جلال الدین صاحب شمس نے صدر انجمن احمد پاکستان کی پہلی سالانہ رپورٹ میں حضور جیسے محسن آقا کے اس لطف و کرم اور شفقت و احسان کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں فرمایا :- جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور ہزاروں مرد اور عورتیں اور بیچتے بے سرو سامانی کی حالت میں لاہور میں اگر استان خلافت پر پڑے تھے سینکڑوں تھے جنہیں تن پوشی کے لئے کپڑوں کی ضرورت تھی اور ہزاروں تھے جن کو خوردو نوش کی فکر تھی اور سینکڑوں تھے جو صدموں کی تاب نہ لا کر بیمار اور مضمحل ہو رہے تھے۔مزید برآں موسم سرما بھی قریب آرہا تھا اور ان غریبوں کے پاس سردیوں سے بچنے کا کوئی سامان نہ تھا۔پھر ان لوگوں کو مختلف مقامات پر آباد کرانے اور ان کی وجہ معاش کے لئے حسب حالات کوئی سامان کرنے کا کام بھی کچھ کم اہمیت نہ رکھتہ تھا۔یہ مشکلات ایسی نہ تھیں جو غیر از جماعت لوگوں پر نہیں آئیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا اور ہمارا ایک مونس و "النقل" برای ۱۱ و ۱۳۳۶ ش صفحه ۳ ۱