تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 100 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 100

ٹوٹ لیا ہے۔قادیان کے رہنے والوں میں چونکہ یہ شوق ہوتا تھا کہ وہ اپنا مکان بنائیں اس لئے عورتوں کے پاس زیور اور مردوں کے پاس روپیہ بہت ہی کم ہوتا تھا۔اس لئے جب لوگوں کو قادیان چھوڑنا پڑا تو مکان اور اسباب سکھوں نے لوٹ لئے اور روپیہ اور زیوران کے پاس تھا ہی نہیں۔اکثر بالکل خالی ہاتھ پہنچے ہیں۔اور اگر جلد ان کے لئے کچھ کپڑے اور رضائیاں وغیر جہیا نہ کی گئیں تو ان میں سے اکثر کی موت یقینی ہے۔اس لئے میں مغربی پنجاب کے تمام شہری، قصباتی اور دیہاتی احمدیوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آج ان کے لئے ایشانہ اور قربانی کا جذبہ دکھانے کا وقت آگیا ہے اور سوائے ان بستروں کے جین میں وہ سوتے ہیں اور سوائے اتنے کپڑوں کے جو اُن کے لئے اشد ضروری ہیں باقی سب بستر اور کپڑے ان لوگوں کی امداد کے لیئے دے دیں جو باہر سے آرہے ہیں۔سیالکوٹ کی جماعت کو نئیں ہدایت کرتا ہوں کہ گورداسپور اور اور کئی جگہوں کے زمیندار وہاں بٹھائے جا رہے ہیں ان میں سے بھی اکثروں کے پاس کوئی کپڑا وغیرہ نہیں ہو پہلے بھاگ آئے ان کے پاس کچھ کپڑے ہیں مگر جو بعد میں آئے ان کے پاس کوئی کپڑا نہیں۔خصوصاً جو قادیان میں پناہ گزین تھے۔اور وہاں سے آئے ہیں ان سب کا مال سکھوں اور ملٹری نے لوٹ لیا تھا۔ان میں سے ہر شخص کے لئے بہتر اور کپڑے مہیا کر نا سیالکوٹ کی جماعت کا فرض ہے۔ہمارے ملک میں یہ عام دستور ہے کہ زمیندار ایک دو لیتر زائد رکھتے ہیں تاکہ آنے والے مہمانوں کو دیئے جا سکیں۔ایسے تمام مبتر ان لوگوں میں تقسیم کر دینے چاہئیں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے بھی بھتنے بیشتر کہتا ہوسکیں جمع کر کے ان لوگوں میں بانٹنے چاہئیں۔اس کے علاوہ سیالکوٹ کی تمام زمیندار جماعتوں کو اپنا یہ فرض سمجھنا چاہئیے کہ تمام ارد گرد کے تالابوں سے کسیر جمع کر کے اپنے چھکڑوں میں ان جگہوں ہے پہنچائیں جہاں پناہ گزین آباد ہوئے ہیں۔اسی طرح گنوں کی کھوری اور دھان کے چھلکے جمع کر کے ان لوگوں کے گھر میں پہنچا دیں تاکہ بطور بستروں کے کام آسکے۔تمام جماعتوں اور پریذیڈنٹوں کو اپنی رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کرنا چاہیے کہ انہوں نے اس ہفتہ یا اس جہینہ میں پناہ گزینوں کی کیا خدمت کی ہے اور ان کے آرام کے لئے انہوں نے کیا کوششیں کی ہیں۔سیالکوٹ کے علاوہ دوسرے اضلاع میں جو آدمی نیس رہے ہیں