تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 96
44 ابو امیر مولوی نور الحق صاحب کے سپر د اس وقت حسب ذیل کام ہیں :- آبادی۔چنیوٹ، احمد نگر میں لوگوں کو آباد کرتا اور ان کی مشکلات کا حل - لاوارث مستورات کو رتن باغ میں مقیم ہیں ان کی ضروریات کی دیکھ بھال۔حفاظت مرکزہ۔طوعی خدام حفاظت کو بلانے کی تحریک کرنا اور ان کے لئے لاہور میں رہائش اور نگرانی ، ان کے ماہوار اخراجات کا انتظام کرنا ، بوڑھے دوستوں میں تحریک کرنا تا وہ قادیان جانے کے لئے اپنے نام پیش کریں۔ابوالمنیر مولوی نورالحق صاحب کے علاوہ مولوی محمد صدیق صاحب کے سپرد بعض کام ہیں مثلاً لاوارث مستورات کے لئے روٹی کا دراصل کرنا اور کپڑا بنوانا یا قادیان جو اشیاء بھیجوانی ہوتی ہیں ان کو جہیا کرتا۔مستقل خدام کا انتظام میجر شریف احمد باجوہ کے سپرد ہے۔“ سیدنا الصلح الموعود کی ذاتی نگرانی خاص توجہ اور شبانہ روز دعاؤں کے نتیجہ میں کس طرح مرکزی نظام کی پوری مشینری بے خانماں احمدیوں کو آباد کرنے میں وقت رہی اور چند ماہ کے اندر اندر شرقی پنجاب کی تمام جماعتوں کے بسانے کا انتظام کامیابی کے مراحل میں داخل ہو گیا۔اس کا اجمالی خاکہ ہم محترم مولوی ابو المنیر نور الحق صاحب ( ناظر انخلاء و آبادی) کے الفاظ میں ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔موصوف اپنے ایک غیر مطبوعہ بیان میں لکھتے ہیں کہ " مشرقی پنجاب اور قادیان سے آنے والے احباب کے عارضی قیام کے انتظام اور ان کی آبادی اور قادیان سے انخلاء کا انتظام حضور نے خاکسار کے سپرد کیا تھا۔چونکہ کثیر تعداد میں آنے والے مہاجرین کے ٹھہرانے کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی اس لئے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے یہ ہدایات دیں کہ بود عامل بلڈ نگ کے متصل عالی میدان میں (جواب آباد ہو چکا ہے، سائبان لگا لئے بھائیں اور قضائے حاجت کے لئے ایک طرف گہری اور لمبی خندقیں کھود دی جائیں اور ایسا انتظام کیا جائے کہ وبا پھیلنے نہ پائے۔ان کے کھانے کے انتظام کے لئے لنگر خانہ سیح موعود میں انتظام کیا گیا۔یہ سب اخراجات اس وقت ضروری تھے لیکن چندوں کے نہ آنے کی وجہ سے بہت دقتیں تھیں حضور نے اپنے گھر کے افراد کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ تمام لوگ صبح و شام ایک ایک روٹی پر گزارہ کریں اور یہی قانوان