تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 90 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 90

9۔سے مسلمانوں کے مزید اخراج کو روک دے اور جو مسلمان وہاں سے برباد ہو کہ نکل آئے ہیں انہیں پھر اپنے گھروں میں آباد کرنے کے لئے کوشش کرے۔یا د رکھنا چاہئیے کہ بعض فتنہ انگیز لوگوں اور مسلم لیگ کے دشمنوں نے یہ حالت دیدہ دانستہ پیدا کی ہے۔یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو بسانے کی گنجائش نہیں ہے۔یہ ایک پھال ہے جو اچھی طرح سوچ سمجھ کر پھلی گئی ہے اور اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو گذشتہ چند سالوں سے کانگریس مسلم لیگ کے لئے پھیلاتی پہلی آئی ہے۔- مسلمانوں کے لئے اس مصیبت کا علاج صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اُن میں عام بیداری پیدا کی جائے اور آپس کے مذہبی اور سیاسی تمام تفرقات کو نسباً منسیا کر دیا جائے اور ہر اس شخص کو جو اللہ تعالے اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نام لیوا ہے اور مسلمان کہلاتا ہے ایک ہی تنظیم میں منظم کر لیا جائے ،اور اس مشترکہ مصیبت کا پوری طرح منظم ہو کہ مقابلہ کیا جائے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں قربانی کی روح پیدا کی بجائے جب تک ہر مسلمان اپنی جان اپنی اولاد اور اپنا تمام مال قوم کے لئے وقف نہیں کہ دے گا اس وقت تک سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی دنیا کی طاقت ہم کو برباد کرنے سے نہیں بچ سکتی تنظیم اور قربانی ہی ایک ایسی چیز ہے جو اس وقت مسلمانوں کو بچا سکتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہمارے بڑے بڑے لیڈروں کو قربانی کرنا سیکھنا چاہیئے امراء میں قربانی کا ایسا احساس پیدا ہونا چاہئیے۔۔۔۔کہ وہ اپنی تمام دولت قوم کے حوالے کر دیں ورنہ نصف بجائداد دینے سے تو ذرا دریغ نہ کریں اور تمام مسلمان نفسا نفسی چھوڑ کر تمام تگ و دو اجتماعی مفاد کے لئے وقف کر دیں اور اپنے لئے صرف اس قدر رکھیں بھو زندگی کے سہارے کے لئے ضروری ہو۔اگر مسلمانوں نے اس انتہائی مصیبت کے وقت بھی نفسا نفسی کو ترک نہ کیا تو لازماً قدرت کے عام قانون اور اللہ تعالے کی سنت کے مطابق وہ بھی ان قوموں میں شامل ہو جائیں گے جن کا ذکر اب محض عبرت کے لئے کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں ایسی کئی قوموں کا ذکر آتا ہے اور