تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 302
٣٠١ فصل اوّل استانی کام والی مسالمی پاکستان کی نوزاد مسلمان ملک معرض وجود میں آتے ہی سینکڑوں ہزاروں داخلی و خارجی الجھنوں کی راہ نمائی اور مخلص الشورے میں مبتلا ہو گئی تھی اس نازک موقعہ پر حضت سیدنا المصلح الموعود پاکستان کی خدمت کا عظیم مقصد لے کر میدان عمل میں اتر ے اور آپ نے اس کی مضبوطی اور استحکام کے لئے اسی زور و شور اور شد و مد سے خدمات انجام دینا شروع کر دیں جس طرح حضور نے اور حضور کی قیادت میں جماعت احمدیہ نے قیام پاکستان کے بہاد میں نمایاں اور سرگرم حصہ لیا تھا۔سب سے اوّل ضرورت اس امر کی تھی کہ ملک کے پیش آمدہ مسائل میں اسلامی تعلیم اور ملکی تقاضوں کی روشنی میں ارباب حل و عقد کی بر وقت رہنمائی کی بجائے اور اُن کو مخلصانہ مشورے دینے جائیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے حضور نے ہش کے الفضل میں بہت سے قیمتی اداریئے سپرد قلم فرمائے جو حضور کی فراست و بصیرت اور علمی و سیاسی ذہانت کا شاہکار ہیں۔ہم ذیل میں بطور نمونہ ان تاریخی اداریوں میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :- انڈونیشیا، ایسے سینیا اور سعودی حکومت اس حضرت بیت المصلح الموعود نے حکومت پاکستان کو تحریک فرمائی کہ اسے انڈونیشیا ، ایسے سیفیا اور سعودی سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی تحریک حکومت سے فوری طور پر سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں چنانچہ تحریر فرمایا کہ " بہت سے ضروری ممالک جن سے فوراً پاکستان کا تعلق قائم ہو جانا چاہیئے تھا ان سے اب ایک تعلق قائم نہیں ہو سکا اور شاید پاکستانی حکومت کے ذمہ داروں کو یہ بھی معلوم نہیں که بعض طریقے ایسے بھی ہیں کہ بہت کم خرچ سے بیرونی ممالک سے تعلق قائم کئے جا سکتے ہیں۔اس وقت ہم تین ملکوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے پاکستان کے سیاسی تعلقات فوراً قائم ہو جانے چاہیئے تھے اور جن کی طرف حکومت پاکستان کو فوری توجہ دینی چاہیے تھی