تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 640
ان کے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔جب وہاں پہنچے تو انہوں نے ایک شرط یہ لگادی کہ فیصلہ غیر احمدی کریں گے اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تن میرا دشمن کرے۔اتنے میں تمام سامعین نے جو کہ ارد گرد کے دیہات سے بلائے گئے تھے شور مچا دیا اور مناظرہ نہ ہو سکا۔دو ہر جلسہ گاہ میں غیر صریوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مولوی صاحب کو اور ایم سعید احمد صاحب کو قتل کر دیا جائے اور احمدیت کو سانی تان کولم نے مٹا دیا جائے۔یہ ارادہ کرکے کچھ لوگ انہیں احمدیہ کی طرف آرہے تھے کہ رستہ میں دو غیر احمدی بھاگتے ہوئے ان کو ملے۔ان کو احمدی کچھ کر خوب زدو کوب کیا گیا جب بالکل نڈھال ہو گئے تو مارنے والے چھوڑ کر بھاگ گئے۔۱۹۳۳ء میں آپ قادیان تشریف لے گئے اور حضرت امیر المومنین المصلح الموعود سے ایک اینٹ پر ڈھا کر کہ لائے۔چونکہ ان دنوں احمدیوں کے لئے زمین خریدنی بہت مشکل تھی اسلئے مسجد احمدیہ کے لئے آپ نے نہ صرف زمین دی بلکہ تمام خرچ بھی خود برداشت کیا اور اس مسجد کی بنیا در اس اینٹ سے رکھی گئی۔آپ نے احدیت کے متعلق بہت سی کتابیں اور ٹریٹیٹ تامل (TAMIL ) میں شائع کئے تھے۔آپ نے مسجد نگیو سیلون کے بنانے میں بھی بہت بڑا حصہ لیا۔فتح دسمبر یہ ہی کی صبح کو آپ کو ضعف قلب کا عارضہ ہویا ۳۱۰ فتح کو ہسپتال میں داخل کئے گئے۔ار صلح جبوری یہ ہش کی شام کو وفات پائی۔اور اور صبح جنوری پہ ہیش کو ۶۱۹۴۹ احمدیہ قبرستان نگبو میں سپرد خاک کئے گئے۔بے له الفضل ۱۲۵ تبلیغ فروری ماه پیش متن