تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 601
DAM بیان دینے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔کیا تم اپنے مالوں کی محبت کی وجہ سے اپنی آنکھوں کے سامنے انکو مرتا ہوا دیکھو گے۔اگر وہ اس حالت میں مرے کہ تم نے بھی قربانی کا پورانمونہ دکھا دیا ہو گا تو وہ اگلے جہان میں تمہارے شفیع ہوں گے اور خدا کے حضور میں تمہاری سفارشیں کریں گے لیکن اگر وہ اس طرح بھائی دینے پر مجبور ہوئے کہ ان کی قوم نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے وھی نے اُن کو مدد نہ پہنچائی تو وہ تو شہید ہی ہوں گے مگر یے اہل وطن کا کیا حال ہوگا ؟ دنیا میں ذلت اور مشقتی ہیں ؟ اس سوال کا جواب نہ دنیا جواب دینے سے اچھا ہے۔اس دنیا کی وقت سے تو انسان منہ چھپا کہ گزارہ کر سکتا ہے مگر اُس دنیا میں وہ کیا کرہ سے گا ؟ غالب نے خوب کہا ہے۔اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گئے : مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے جو ذلت صرف اس دنیا کے متعلق ہو موت اُس سے نجات دے سکتی ہے مگر جو دونوں جہانوں سے متعلق ہوائی میں کیا فائدہ دیگی۔وہ تو کلنگ کے ٹیکہ کو اور بھی سیاہ کردے گی۔پس اسے عزیہ دالگری کس کو۔اور زبانیں دانتوں میں دبا اور جو تم میں سے فرمائی کرتے ہیں وہ در زیادہ قربانیاں کریں۔اپنے حوصلہ کے مطابق نہیں دین کی ضرورت کے مطابق۔اور جو نہیں کرتے قربانی کرنے والے اُنہیں بیدار کر دیں۔ہر تحریک جدید کا حصہ دار اپنے پر واجب کہ لے کہ وہ دفتر دوئم کے لئے ایک نیا حصہ اور تیارہ کر ے گا اور جب تک وہ ایسا نہ کر سکے وہ سمجھ لے کہ میری پہلی قربانی بیکا نہ گئی اور شاید کسی نقص کی وجہ سے مد اتعالیٰ کے دربار سے واپس کر دی گئی۔وہ پھل جو درخت بن گیا وہی پھل ہے جو کسی کے پیٹ میں جا کر فضلہ بن گیا۔اور اپنی نسل کو قائم نہ رکھ سکا۔وہ کیا بھی ہے خدا ہی اُس پر رحم کہ ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد الله جماعت حمید کی پنجاه سال رفتار ترقی جماعت احمدیہ کے مشہور مفت کا فین میں صارلیے اخبار محقق ملک فضل حسین پر اخبار ریاست کا دلچسپ نوٹ ۱۳۲۵ الفضل ربه فورد انگست و پیش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک غیر مطبوعہ مکتوب شائع کیا جو حضرت اقدس علیہ السلام نے دار تمبر شدہ کو حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے نام تحریر فرمایا تھا اور میں "الدام ه اتفضل ما رو فار جوهانی ۳۵۰ در پیش من تا هست