تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 69 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 69

49 دیں۔اس وقت اس فیصلہ کا انحصار ایک ایسے شخص پر تھا جس کی عمر کا لچ کے بہت سے پروفیٹروں سے کم تھی بس کی حیثیت موجودہ کالج کے بہت سے پروفیسروں سے بہت کم تھی۔جس کا علم جہاں تک دنیوی علوم کا تعلق ہے، کانچ کے ہر طالب علم سے کم تھا۔صرف اس ایک انسان کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ان تمام ذمہ داریوں کے ہوتے ہوئے آیا ان تمام بوجھوں کے ہوتے ہوئے اور آیا ان تمام کمزوریوں کے ہوتے ہوئے جبکہ جماعت کے تمام اکا بر خلاف کھڑے ہو گئے تھے۔جبکہ بہت سی بیرونی جماعتوں میں ابتلاء آچکا تھا۔جبکہ جماعت کے لوگوں میں یہ خیال پیدا کر دیا گیا تھا که قادیان کے لوگ سلسلہ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور بہت بڑے ختنہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں، اس وقت ان کا مقابلہ کرنا چاہیے یا ان کے سامنے ہتھیار رکھ دینے چاہئیں۔وہ اکا بہ جو سلسلہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے اُن کا اندازہ اس وقت کی حالت کی نسبت کیا تھا اس کی طرف سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اپنے ایڈریس میں اشارہ کیا ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا اثر ہ رسوخ اتنا زیادہ ہے اور بہار سے مقابلہ میں کھڑے ہوئے والے تعداد میں علم میں ، ساز و سامان میں اور اثر و رسوخ میں اتنے کمزور ہیں کہ اگر ہمارے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تو گرتے پڑتے زیادہ سے زیادہ دس سال تک ٹھہریں گے۔پھر یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور احمدیوں کا نام ونشان منٹ بنائے گا۔اس وقت اس شخص کو میس کی عمرہ ۲ سال تھی، نمدا تعالیٰ کے فضل سے اس بات کا فیصلہ کرنے کی توفیق ملی کہ خواہ حالات کچھ بھی ہوں اس جھنڈا کو کھڑا رکھے گا جس کو خدا تعالٰی نے بھر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کھڑا کیا ہے۔اہ اس کے بعد حضور نے آہ کے بعض واقعات پر روشنی ڈالنے کے بعد طلباء کو نصیحت فرمائی : آج آپ لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ دن کیسے خطرناک تھے اور خدا تعالیٰ نے کسی قسم کے فتنوں میں سے جماعت کو گزارا۔اس حالت کا آج کی حالت سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔اگر وہی جوش اور وہی اخلاص بجو اس وقت جماعت میں تھا آج بھی آپ لوگوں میں ہو تو یقینا تم پہاڑوں کو ہلا سکتے ہو۔اس وقت جماعت کے لوگ بہت تھوڑے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا ایمان اور ایسا جور بخشا کہ کوئی بڑی سے بڑی روک بھی انہیں کچھ نہ نظر آتی تھی۔آج کے نوجوان اور آج کی سماعت اگر الفضل بیگم نبوت / نومبر ۱۳۳۳ روش سفر کا لم ۳-۴ #1900