تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 67
42 مجلس مذہب و سائنس کے زیراہتمام پہلے آٹھ لیکچر مسجد اقصی میں دیئے گئے اور نوال لیکچر مسجد مدرک میں ہوا۔یہ مجلس تقسیم ہند تک قائم رہی اور اپنے دائی عمل میں نہایت قابل قدر اور مفید علمی خدمات سر انجام دیتی رہی۔ستند تا المصلح الموعود کے ارشاد پر " مجلس مذہب و سائنس" تعلیم اسلام ریسرچ سوسائٹی کی بنیاد کے علاوہ مدار صلح جنوری میش کو " تعلیم الاسلام ۱۹۴۵ ریسرچ سوسائٹی بھی قائم کی گئی جس کے بنیادی اغراض و مقاصد یہ تھے کہ طلباء اور اساتذہ دونوں میں تحقیقاتی اور علمی مذاق پیدا کیا جائے اور ان اعتراضات کے متعلق جو مذہب پر عموماً اور اسلام پر خصوصاً سائنس اور دیگر علوم کی بناء پر کئے جاتے ہیں پوری تحقیقات کر کے ان کا رد کیا بجائے سو سائٹی کی دوست نہیں تجویز کی گئیں۔(الف) سائنس سیکشن (ب) آرٹس سیکشن اس علمی اور تحقیقاتی مجلس کے صدر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (پرنسپل اور سر ریت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (صدر کالج کمیٹی تھے۔اور اس کے قواعد میں یہ بات شامل تھی کہ یہ سوسائٹی فضل عمر سائنٹفک اینڈ ریلیجیں سوسائٹی کے لئے جس کا نام مجلس مذہب سانس" دیکھا گیا، پودوں کے ذخیرہ ( NIASERY) کے طور پر کام کرے گی۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کالا ہی نہیں ، ویلی فنڈ، صدر انجمین احمدیہ اور عطیہ بھات سے اس کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جائے گی فضل عمر پوسٹل کی نئی فضل عمر پوسٹل عارضی طور پر گیسٹ ہاؤس میں قائم ہوچکا تھا۔گر ضرورت اس امرکی بھی کہ اسے کالج کمیٹی کے طے شدہ پروگرام کے مطابق جامعہ احمدیہ عمارت کا افتتاح کی عمارت میں منتقل کر دیا جائے۔یہ جگہ تعلیم الاسلام کا بیچ سے بالکل متصل غربی جانب واقع تھی اور تلاقت اولی کے زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کی رہائش گاہ اور دفتر تفسیر القرآن کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔یہ عمارت بہت سے تعمیری اضافوں اور تبدیلیوں کے بعد ماہ اتحاد / اکتوبر میں ہوسٹل کی صورت میں تبدیل کر دی گئی اور حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے اس کا افتتاح اسی ماہ ۲۷ اخطار / اکتوبر کو نماند عصر کے بعد فرمایا۔اس تقریب پر چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے سپرنٹنڈنٹ فضل عمر ہوسٹل نے پہلے ایک ایڈریس