تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 65
۶۵ " طرح سمندر میں پہلے ایک لہر اٹھتی ہے، پھر دوسری - اور پھر تیسری اور اس طرح پہروں کا مطلقہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی طرح خدائی سلسلہ بھی روز بروز بڑھتا ہے اور اپنے حلقہ کو وسیع کرتا جاتا ہے۔شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے زمانہ میں ہماری ابتدائی بحث قریباً نوے فیصدی وفات مسیح کے مسئلہ پر ہوا کرتی تھی۔پھر صداقت مسیح موعود کے مسئلہ پر زور شروع ہوا۔پھر نبوت کے مسائل پر بحث کا دور آیا اور ساتھ ساتھ دوسری قوموں کے ساتھ مقابلہ بڑھتا گیا۔اور اب آہستہ آہستہ اللہ تعالے وہ وقت لا رہا ہے جب کہ احمدیت کا ساری دنیا کے ساتھ ٹکراؤ ہونے والا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہی اسے انشاء اللہ عالمگیر فتح حاصل ہوگی۔اس وقت ہمارے لئے معین مذہبی تعلیمات کو چھوڑ کر تین مقابلے درپیش ہیں۔ان میں سے بعض تو حقیقی ہیں اور بعض خیالی لیکن بہر حال ان تینوں کا مقابلہ کرنا اس مجلس کا کام ہے۔پہلا دائی کیو اقتصادیات کا دائرہ ہے ایک عملی دائرہ ہے جس کا اسلام اور احمدیت سے بھاری مقابلہ ہے۔ہمیں اس کے مقابلہ پر وہ نظام پیش کرنا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور اسے غالب کر کے دکھانا ہے۔دوسرا دائرہ جو فلسفہ سے تعلق رکھتا ہے ایک قولی مقابلہ ہے۔یہ لوگ فلسفے کے چند نظریئے پیش کرتے ہیں جو بعض صورتوں میں اسلامی تعلیموں کے ساتھ سخت ٹکراتے ہیں۔ہمیں اس کے مقابلہ میں اسلام کے نظریے پیش کرنے اور ان کی فوقیت ثابت کرنی ہے۔تیسرا حلقہ سائنس کا ہے۔اس حلقہ کا مذہب کے ساتھ کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں ہے۔کیونکہ جیسا کہ حضرت میں موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے سائنس خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا قول ہے مگر چونکہ بعض لوگ کو تاہ بینی کی وجہ سے غیر ثابت شدہ حقائق کو ثابت شده متقائق سمجھ کر اعتراض کر دیتے ہیں۔اس لئے اس کے مقابلہ کی بھی ضرورت ہے۔و یقین تارے ہی ایک ملی در ای ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی حقیقی جن کے مقالہ کے لئے یہ مجلس مذہب و سائنس قائم ہوئی ہے اسے مجلس نے اپنے قیام کے بعد سب سے پہلے خصوصی تو یہ دو امور پر مرکوز کردی۔۔اعجدید علوم کی طرف سے اسلام اور مذہب پر وارد ہونے والے اعتراضات کی مکمل فہرست الفضل " ۲۵ شہادت / اپریل میں صفحہ ۳ پر مکمل تقر یہ دریح ہے ؟ >1970