تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 760 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 760

میں میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی جگہ جانا چاہیئے جہاں سے دہلی و شملہ سے تعلقات آسانی سے قائم کئے جاسکیں اور ہندوستان کے وزراء اور مشرقی پنجاب کے وزرا ء پر اچھی طرح معاملہ کھولا بھا سکے۔اگر ایسا ہو گیا تو وہ زور سے ان فسادات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح کا ہور میں سیکھ لیڈروں سے بھی بات چیت ہو سکتی ہے جہاں وہ ضرور تا آتے جاتے رہتے ہیں اور اس سے بھی فساد دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ان امور کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں چند دن کے لئے لاہور جا کر کوشش کروں۔شاید اللہ تعالے میری کوششوں میں برکت ڈالے اور یہ شور و شتر جو اس وقت پیدا ہو رہا ہے دور ہو جائے میں نے اس امر کے مدنظر آپ لوگوں سے پوچھا تھا کہ ایسے وقت میں اگر میرا جانا عاری طور پر زیادہ مفید ہو تو اس کا فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے یا میں نے، اگر آپ نے کرنا ہے تو پھر آپ لوگ محکم دیں تو میں اسے مانوں گا لیکن میں ذمہ داری سے سبکدوش ہوں گا اور اگر فیصلہ میرے اختیار میں ہے تو پھر آپ کو حق نہ ہوگا کہ چون و چرا کریں۔اس پر آپ سب لوگوں نے لکھا کہ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے سوئیں نے چند دن کے لئے اپنی سکیم کے مطابق کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ لوگ دعائیں کرتے رہیں اور حوصلہ نہ ہاریں۔دیکھو مسیح کے حواری کتنے کمزور تھے مگر میں انہیں چھوڑ کر کشمیر کی طرف چلا گیا اور سیجیوں پر اس قدر مصائب آئے کہ تم پر ان دنوں میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں آئے لیکن انہوں نے ہمت اور بشاشت سے ان کو بر داشت کیا۔ان کی جدائی تو دائی تھی مگر تمہاری جدائی تو عارضی ہے اور خود تمہارے اور سلسلہ کے کام کے لئے ہے۔مبارک وہ جو یئے بلنی سے بچتا ہے اور ایمان پر سے اس کا قدم لڑکھڑاتا نہیں۔وہی جو آخر تک صبر کرتا ہے بعد ان عالی کا انعام پاتا ہے۔پس صبر کرو اور اپنی عمر کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے وفادار رہو۔اور ثابت قدمی اور نرمی اور عقل اور سُوجھ بوجھ اور اتحاد و اطاعت کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ دنیا عش عش کر اُٹھے جو تم میں سے مصائب سے بھاگے گا وہ یقیناً دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگا۔اور خدا تعالے کی لعنت کا ستحق۔تم نے نشان پر نشان دیکھتے ہیں اور خدا تعالے کی قدرتوں کا منور جلوہ دیکھا ہے اور تمہارا دل دوسروں سے زیادہ بہادر ہونا چاہیے۔میرے سب لڑکے اور داماد اور د دنوں بھائی اور بھتیجے قادیان میں ہی رہیں گے اور میں اپنی غیر حاضری کے ایام میں عرینہ