تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 755 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 755

خود قادیان کی رہنے والی ہزاروں مستورات اور بچے ایسے ہیں جنہیں خطرے کے وقت میں دوسر جگہ منتقل کرنا ضروری ہے پس اس تعلق میں دو قسم کے انتظامات فوری طور پہ درکار ہیں۔اول پنا نگر میوں کے کمپ کا قیام، دوسرے قادیانی عور توں در پوں اور پناہ گزینوں کو لاہور یا سیالکوٹ منتقل کرنے کا انتظام قادیان میں ایک عرصہ سے ریل اور تاربند ہے اور ٹیلیفون گو چند دن بند رہنے کے بعد اب کھلا ہے مگر عملاً اس کا کنکشن نہیں ملتا اور چونکہ سڑک کا راستہ مسافروں کے لئے بغیر انتظام کے خطرناک ہے اس لئے ہمارا مرکزہ ایک عرصہ سے باہر کے علاقہ سے بالکل کٹا ہوا ہے اور ڈاک اور اخبارات کا سلسلہ بالکل بند ہے ، ضروری ہے کہ پبلک میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے ریل اور تار کو جلد ترکھول دیا جائے اور ٹیلیفون کے رستہ میں جو علی روکیں ہیں کہ امرتسر کا ایک چینچ کنکشن نہیں دیتا اُسے دور کیا جائے۔۔ہمارے پاس دو جہاز تھے جن سے ہم اپنی ڈاک و تاریں لاہور بھجواتے تھے اور لاہور سے اپنی ڈاک اور تاریں منگوا لیتے تھے یا دوائیاں اور دیگر ضروریات زندگی لاہور سے منگوا ایھتے تھے۔یا کسی سواری کو کسی کام پر لاہور بھیجوانا ہو تو اُسے بھیجوا دیتے تھے مگر چند دن سے مقامی افسروں نے ہمارے بہازوں پر بھی پابندی لگادی ہے اور اب وہ لاہور میں بند پڑے ہیں۔الزام یہ لگایا گیا ہے کہ یہ جہاز سیکھ دیہات پر پھر کر ان میں دہشت پیدا کرتے تھے اور ہوا سے ہم گراتے اور شوٹ کرتے تھے۔ہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں کہ یہ الزامات بالکل غلط ہیں اور ایک بہانہ بنا کر ہمارے اس آخری تعلق کو کاٹ دیا گیا ہے جو لاہور وغیرہ کے ساتھ ہمیں حاصل تھا۔اور اب تو ہم ضلع کے حکام کے ساتھ بھی کوئی ملاپ کی صورت نہیں رکھتے حالانکہ ہم نے اس بات کی آمادگی ظاہر کی تھی کہ بہار سے جہازوں کی حرکات پر جو بھی معقول پابندی لگائی جائے ہم اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔بہر حال ضلع کے عملی حالات اس بات کو واضح کر ر ہے ہیں کہ فلم کس قوم پر ہو رہا ہے اور ہمارے جہازوں نے عملی نتیجہ کیا پیدا کیا ہے۔۔ہمیں یہ بھی دھمکی دی بھارہی ہے کہ قادیان جو معائنہ نائینس والا اسلحہ ہے اسے ضبط کر لیا جائیگا۔ملے ان جہازوں کے پائلٹ میر سید احمد صاحب (ابن حضرت میر محمد امیل صاحب) اور محمد لطیف صاحب ( ابن حضرت ڈیٹی میاں محمد شریعت صاحب بیٹارڈ ای۔اسے بھی تھے جنہوں نے ان ایام میں نہایت درجہ اخلاص اور کمال قدوائیت اور جانفروشی کے ساتھے یه خدمت انجام دکی