تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 756
ہم انصاف کے نام پر اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ جب دوسری قوم کا ایک طبقہ ناجائز اسلحہ سے علاقہ میں قتل وغارت کر رہا ہے تو کیا مظلوم قوم کا جائز اسلحہ ضبط کرنا قرین انصاف ہے۔موجودہ حالات کو بہتر بنانے کے لئے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا میں اول تو مستقل طور پر ورنہ کم از کم عارضی طور پر اقلیت والی قوم کے افسرا اور فورس مناسب تعداد میں مقرر ہونے چاہئیں یعنی انڈیا میں سول اور پولیس مناسب تعداد مسلمان افسروں کی ہو اور پاکستان میں ہندو اور سکھ افسروں کی مناسب تعداد ہو جب تک کہ نارمل حالات پیدا نہیں ہو جاتے۔بلکہ یہ انتظام مستقل طور پر قائم ہو سکے تو اور بھی بہتر ہے۔یہ افسر اور یہ پولیس جو مشرقی پنجاب میں ہوگی بیشک مشرقی پنجاب کی حکومت کے ماتحت ہوگی مگر پھر بھی اقلیت کو ایک سہارا ہو گا اور اعتم کی صورت ہوگی۔ے۔اسی طرح موجودہ غیر معمولی حالت میں یہ ضروری ہے کہ مشرقی پنجاب میں کچھ مسلمان ملٹری ہوا اور مغربی پنجاب میں کچھ غیر مسلم ملڑی ہو جو بے شک علاقہ کی حکومت کے ماتحت ہو مگر اس کا وجود اقلیت کے اندر اعتماد پیدا کرنے میں مفید ہو گا۔۸ - قادیان میں رسد ختم ہو رہی ہے اور ہمیں پناہ گزینوں اور مقامی آبادی کو رسد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔اس کے لئے بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے جن میں سے ایک یہ ہے کہ کم از کم پناہ گزینوں کے لئے حکومت میں جہیا کرے۔۔چونکہ سارے انتظامات کے باوجود ایک حصہ آبادی کو قادیان سے لاہور۔سیالکوٹ کی طرف منتقل کرنا ہو گا اس لئے کافی تعداد میں اور تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد کنوائے کا انتظام ہونا چاہیئے جن کے ساتھ مسلح گارڈ ہو جس میں کافی حصہ بلکہ موجودہ حالات میں سالم حصہ مسلمانوں کا ہو۔اس کنوائے کے ذریعہ قادیان کی عورتوں اور بچوں اور کمز ور بیا بہ مردوں کے علاوہ پناہ گزینوں کو بھی باہر نکالنے کا انتظام ہوگا۔۔یہ بھی کہا جائے کہ احمدیہ جماعت ہندوستان اور پاکستان دونوں میں موجود ہے اور طبعا ہم دونوں حکومتوں سے تعلق اور دلچسپی رکھتے ہیں اور دونوں پر حقوق بھی۔خاکسار مرزا بشیر احمد الله ٣٠ "