تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 751
-A شماتة الأعداء * اے اللہ میں بلاء کی شدت سے ، شقاوت کا شکار بننے سے ، تقدیر کے بڑے مقدر سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَ مِنْ مِنْ رَدْعَاتِناء اسے اللہ ہماری کمزوریوں کی پردہ پوشی فرما اور ہمارے خطرات کو امن سے بدلی دے۔اللهُمَّ سَجَدَ لَكَ سَوَادِى رَحْيَالِي وَ آمَنَ بِكَ نُوَّادِي وَ اقَتْ لَكَ لِسَانِي فِيهَا أَنَا ذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا عَظِيمُ يَا غَافِرَ الذَّنْبِ العَظِيمِ * اے اللہ میر احسم بھی اور میرا خیال بھی تیرے لئے سجدہ کر رہے ہیں اور میرا دل تجھ پر ایمان رکھتا ہے اور میری آبان تیرے جانوں کی مقر ہے۔اب میں تیرے سامنے ہوں۔اسے با عظمت بادشاہ اسے گناہ عظیم بخشنے والے خدائے حضرت مصلح موعود نے قادیان سے بیرونی جماعتوں کیلئے حضرت صلعمود کا دوسرا پیغام ۳۰ ظہور / اگست میش کو بیرونی جماعتوں کے لئے حسب ذیل دوسرا اور آخری پیغام دیا :۔اعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّحِيرُه بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم هوال محمدُهُ وَنُفَة عَلَى رَسُولِهِ الكرام خدا کے فضل اور رحم کیساتھ سام جماعت کو ہدایات جو فوراً شائع کر دی بھائیں۔باوجود بار بار زور دینے کے لاہور کی جماعت نے کنوائے نہیں بھجوائے جس کی وجہ قادیان کا بوجھ سے زیادہ ہو گیا۔گر گنوائے آتے تو شاید میں بھی چلا جاتا اور جب مسٹر جناح اور پنڈت جی آئے تھے اُن سے کوئی مشورہ کرتا مگر افسوس کہ فرض شناسی نہیں کی گئی۔ار قادیان میں کوئی حادثہ ہوجائے تو پہلا فرض جماعت کا یہ ہے کہ شیخو پورہ یا سیالکوٹ میں ریل کے قریب لیکن نہایت بستی زمین لے کر ایک مرکزی گاؤں بسائے مگر قادیان والی لعلی نہیں کہ کوٹھیوں پر زور ہو۔سادہ عمارات ہوں۔فوراً ہی کالج اورسول اور مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کی تعلیم کو جاری کیا جائے دینیات کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے پر ہمیشہ نہ ور ہو علماء بڑے سے بڑے ملے یکم تبوک استمبر م مش صفحه ۸۱ :