تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 748
نقصان پہنچانے کی تدبیریں ہو رہی ہیں۔ہمارے سپرد قافلہ کو فوراً واپس کرنے کا انتظام کیا جائے۔ڈاکٹر احد کو بھی۔(ہمارے مردوں کے بہانے کی وجہ سے پرسخت ضعف ہو رہا ہے کام کرنے والے کم ہو گئے ہیں۔ان لڑکوں نے سخت غلطی کی ہے کہ مل کر باہر چلے گئے سلسلہ کی عظمت اپنی ذاتی خواہشات پر مقدم ہونی چاہیے۔اب اگر اُن کی عدم موجودگی میں حملہ ہوا تو یہ لوگ تو اب سے اس طرح محروم رہ جائیں گے۔مظفر سے فون یا خط وغیرہ سے باقاعدہ تعلق رکھیں۔وہ پولیس کے چند آدمی حسب فیصلہ بھیجوا دیں۔بہت ہوشیار ہوں۔وہ ڈیرہ بابا نانک سے قادیان تک کا مناسب راستہ دیکھتے آئیں اور قادیان آگر اطلاع دیں۔ڈیھ کے دوسری طرف یا جہاں سے سیالکوٹ کو راستہ ہے ایک باقاعد بچوکی لگوا دیں مسلح پولیس کی تما جانے والوں کی حفاظت ہو سکے۔ڈیرہ کا تھانیدار شرارتی ہے وہ ضرور شرارت کرے گا۔اگر کسی بہانے سے ملڑی کا کوئی نہ کوئی سپاہی ادھر آتا رہے تو اس کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ملٹری کے اسکورٹ سے سیالکوٹ سے بھی کنوائے CONVOY آسکے تو مفید ہے۔آنے والوں کے لئے رہائش کی جگہ ایک علاقہ کے مختلف گاؤں میں ہو جائے۔دانہ زید کا کے آس پاس کے گاؤں میں احمدی زیادہ ہیں۔اگر وہاں کئی در حین مکان لئے جائیں کچھ نٹے احمدیوں سے گارے کے تعمیر کروائے جائیں تو کام میں سکتا ہے ہم ۲۶ نیز آپ ایک سوسائٹی سیاسی کام کے لئے فوراً بنا لیں۔اس کا اعلان ہو۔چند مخلص نوجوانوں کو شامل کر نہیں۔ان کی طرفت سے آمدہ اطلاعات کی بناء پر جن لوگوں سے شرارت کا شبہ ہو انہیں تنبیہہ ہوتی رہے تاکہ ان کی اصلاح ہو جائے۔مثلاً پٹیالہ، فرید کوٹ اور کپور تھلہ نے فوجیں بھیجوا دی تھیں اور اعلان کر دیا ہے کہ فوجیں بھاگ گئی ہیں۔انہیں اس سوسائٹی کی طرف سے خط پہلے جائیں کہ اگر آپ اپنی سو دو سو یا ہزار فوج کو نہیں سنبھال سکے تو چار کروڑ مسلمان کو گون سنبھال سکتا ہے۔اس کا خمیازہ پھر آپ ہی کو بھگتنا پڑے گا۔اسی طرح مسلمانوں کو ادھر کے حالات کی خبر ملتی رہے مگر فساد نہ ہو۔عزیزم مظفر احمد کو کہیں ایک اسکورٹ اپنی کار کے نام پر لاویں بپھر وہاں سے بھجوا کے وہ نیا لکھو کا قریب ترین راستہ اور محفوظ دیکھ کر قادیان آئے اور معلومات دے جائے وگرنہ اگر وسیع پینے