تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 739
۷۲۲ اس ضمن میں حضور نے سب سے پہلا پیغام ۲۲ ظہور / اگست پیش کو تحریر فرمایا اور بذریعہ ہوائی ۱۹۴۷ جهاز شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور کو بھیجا کہ وہ اسے چھپوا کر پاکستان اور اس سے باہر ممالک کی جماعتوں کو پہنچا دیں۔چنانچہ انہوں نے اس کی پوری تعمیل کی۔اس اہم پیغام کا متن یہ تھا:۔بسم الله العة الحمر بر اوران سماعت احمدید خدا کے فضل اور رحم کیسا تھے السلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه فسادات بڑھ رہے ہیں۔قادیان کے گرد دشمن گھیرا ڈال رہا ہے۔آج سنا گیا ہے۔ایک احمدی گاؤں پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔اس گاؤں کی آبادی چھ سو سے اوپر تھی۔ریل ، تار ، ڈاک بند ہے۔ہم وقت پر نہ آپ کو اطلاع دے سکتے ہیں اور نہ جو لوگ قادیان سے باہر ہوں اپنے مرکز کے لئے کوئی قربانی ہی کر سکتے ہیں۔میں نے احتیاطاً خزانہ قادیان سے باہر بھجوا دیا ہے۔پھر بھی اگر ان فسادوں کی درجہ سے بعض کو روپیہ ملنے میں دیرہ ہو تو انہیں صبر سے کام لینا چاہیئے کہ یہی وقت ایمان کی آزمائش کے ہوتے ہیں۔مجھے بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔ان لوگوں کے اخلاص میں شیر نہیں لیکن میری بیگہ قادیان ہے۔اس میں کوئی شک نہیں، تفسیر کا کام اور کئی اور کام پڑے ہیں۔لیکن ان کاموں کے لئے خدا تعالے اور آدمی پیدا کر دے گا یا وہ مجھے قادیان میں ہی دشمن کے حملہ سے بچائے گا۔لیڈر کو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہئیے۔یہ خدا تعالے پر بدلتی ہے۔مجھے یقین بقیه حاشیه صفحه گذشته شروع کر دیا۔چونکہ ابھی قادیان کی حفاظت کے سلسلہ میں سامان اور رضا کار بھجوائے سما رہے تھے جس کے لئے شیخ صاحب مکرم پہلے پر کی جاری کرتے اور محاسب صاحب کی تصدیق سے لیکن ادائیگی کر دیتا تھا۔مذکورہ ضروریات کے لئے حضور رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق حبیب بینک لمینڈا ہور میں صدر انجین احمدیہ پاکستان لاہور کے نام سے اکاؤنٹ کھولا گیا جس کے آپریٹر شیخ بشیر احمد صاحب اور مرزا عبد الغنی صاحب محاسب قرار پائے تھے۔مجھے بنک سے حسب ضرورت پچاس ساٹھ ہزارہ روپیہ نکلوا دیا گیا میں روزانہ جو آمد چندہ جھات وصول ہوتی اُسے بنک مذکور میں جمع کرا دیا اور بینک سے برآمد شدہ رقم ہر دو افسران کی ہدایات کے تحت شریح کرتا اور اس کا حساب رکھتا جاتا۔لاہور میں اس وقت مکرم چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب جو اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے) اور جماعت احمد ہے کی ہر طرف تعریف ہو رہی تھی کہ یہی ایک مسلمانوں کی جماعت ہے جو ہندو سکھوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے