تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 737 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 737

۷۲۰ کے ساتھ قتل و غارت ، لوٹ مار ، اغوا اور آتشزنی کے بھیانک حادثات شامل تھے اور یہ سلسلہ روز برونو زیادہ وسیع اور زیادہ خطرناک ہوتا گیا ھتی کہ بالآخر ضلع بھر کے سب مسلمان دیہات قتل و غارت کے ذریعہ خالی کرائے گئے۔انہی ایام میں سکھوں نے قادیان کے ارد گرد سب راستے اور نہروں کے پل مسدود کو نا شروع کر دیئے اور آمد و رفت پر خطرا اور سخت مخدوش ہو گئی۔۲۱ اگست (ظہور) کو قادیان سے غربی میانب واقع احمدی گاؤں وتجواں پر سکھوں نے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں قریباً ۰ ۵ آدمی شہید اور ۳۹ زخمی ہوئے اور لوٹ مار سے گاؤں خالی کرا لیا گیا۔۲۲ اگست (ظہور) کو میجر چودھری شریف احمد صاحب باجوہ بی۔اے ، ایل ایل بی سیفٹی آرڈی نیس کے تحت گرفتار کر لئے گئے ہے ای این احمدی در کاقیام پکستان میں ان کا ایوارڈ کے فیصل کے اورسیر الصقر المصلح الموعود نے سب سے پہلا اور اہم قدم یہ اٹھایا کہ جماعت احمدیہ کا خزانہ پاکستان میں منتقل کرنے کا فوری انتظام فرمایا۔اور ۲۳ ظہور / اگست این کو دفتر یا سب صدر احسین احمدیہ کی ایک شاخ امپل روڈی ہور میں کھول دی گئی اور راہبہ علی محمد صاحب ناظر بیت المال نے بذریعہ مطبوعہ سرکار مورخہ امر اگست ۱۹۴۷ ) تمام امراء و صد ر صاحبان کو اطلاع دی کہ آئندہ تمام جماعتیں جو مغربی پنجاب اور صوبہ سرحد اور سندھ میں واقع ہیں وہ تا اطلاع ثانی صدر انجین احمدیہ کے ہر قسم کے پھندے اور حفاظت مرکز کی تحریک کے متعلق تمام رقمیں بنام محاسب صاحب صدر انجمن احمدیہ ۱۲ ٹمپل روڈ لاہور بھیجیں اور ہر مقامی جماعت کے ذمہ جس قدر چندے اور وعدے قابل ادائیگی ہیں وہ فوراً ادا کئے بھائیں ، سے ن " الفضل " صلح جنوری ساله اش صفحه ۴ سکہ قریشی محمد عبد اللہ صاحب (حال سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام کالج کا بیان ہے کہ حضرت امیرالمومنین خلیفہ السیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد تھا کہ محاسب صدر انجین احمدیہ (مرزا عبد الغنی صاحب) فورال ہور بذریعہ ہوائی جہاز چلے جائیں اور اپنے ساتھ کوئی ہوشیار کارکن جسے وہ پسند کریں ساتھ لے جائیں اور وہاں دفتر محاسب و امانت کی یہ کریں اور اپنے ساتھ روپیہ بھی لیتے جائیں۔چنانچہ مرزا عبد الغنی صاحب 9 اگست کار کو جمعہ کی نماز کے بعد مسجد سے دفتر خزانہ صدر انجین احمدیہ سے خونم کا روپیہ لے کر مارال انور پہنچ گئے اور بذریعہ ہوائی جہاز لاہور روانہ ہو گئے۔آپنے روانگی سے قبل خاکسار کو جو اس وقت دفتر محاسب و امانت کا ہیڈ کلرک تھا۔ہدایت فرمائی کہ کل صبح نماز فجر کے معا بعد حضرت صاحبزادہ مرزا (بقیہ حاشیہ اچھلے صفر پر )