تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 57
مشکلات تھیں لیکن مکرم انور صاحب کی کوششوں اور دوسرے احباب کے تعاون سے یہ کام مختلف مراحل سے گزرتا ہوں جنوری 1919ء میں پاتی کیل پر پہنچا۔فرنشنگ فٹنگ اور بجلی کا سامان مہیا کرنے میں بھی بہت سی مشکلات تھیں۔دوسرے قادیان میں ماہر کاریگروں کی قلت کی وجہ سے اس کام کو پورا کرنے میں اندازہ سے زیادہ وقت صرف ہوا۔۔۔۔جنگ کی وجہ سے پونکہ سامان سائنس کی غیر مالک سے درآمد بند تھی اور ہندوستان کی مشہور فرموں سے بہت کم سامان لمتا تھا اس لئے بیرونی ممالک سے بعض آلات کے حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ سے لائسنس حاصل کر کے انگلستان اور امریکہ سے سامان منگوانے کی کوشش کی گئی۔جماعت کی توجہ سائنس کے علوم کی طرف کم تھی اس لئے کام کرنے والوں کی قدرت بہت شدت سے محسوس کی گئی بچنانچہ ان مشکلات کے پیش نظر حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالے بنصرہ العزیز نے پہلے ہی واقفین زندگی کے ایک گروہ کو سائنس کی اصلے تعلیم کے لئے منتخب فرما کو ان کی ٹریننگ کا انتظام کروا دیا تھا۔ابتداء میں خاکسار نے صرف ایک کلرک کی امداد سے کام شروع کیا۔کچھ عرصہ سے مکر می اقبال احمد صاحب بی ایس سی آنر نہ اور بشارت احمد صاحب بی ایس سی بھی تشریف لے آئے ہیں۔ان ہر دو احباب نے ابتدائی تحقیقاتی کام شروع کہ دیا ہے جسے وہ ایم ایس سی کی ڈگری کے لئے پیش کریں گے۔انشاء اللہ اکتوبر 9ہ سے عطاء الرحمن صاحب غنی ایم ایس سی امپیریل انسٹی ٹیوٹ دہلی سے تشریف لائے ہیں اور لائیبریری اور لٹریچر کی چھان بین کا کام ان کے سپرد کیا گیا ہے۔پانچ مزید دوست مختلف اداروں میں بالترتیب ذیل ایم ایس سی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔غلام احمد صاب عطا ایگریکلچرل کالج لائل پور میں ہنوں احمد صاحب بنارس یونیورسٹی میں ، سلطان محمود صاحب شاہد ، نصیر احمد خان اور ناصر احمد سیال علی گڑھ یونیورسٹی میں ، ان کے علاوہ محمد عبد اللہ صاحب بی ایس سی انجنیر رنگ اور ناصر احمد صاحب سیال کو عنقریب اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھجوایا جارہا ہے۔ان احباب کے علاوہ بہت سے اور نوجوان بھی زندگیاں وقف کر کے سانس کی ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔۔۔۔ان حالات میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قادیان میں معیاری کرنا اور پھر کام کو جنگ کے ایام میں شروع کر وانا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العربية