تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 718
یگانگت اور شفقت اور محبت میں تبدیل ہو گیا تھا اور اس پاک وجود نے روٹی کے تمام پردوں کو چاک کر کے رکھ دیا تھا۔آپ بلا تکلف بلا احساس غیرت نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے مشفقانہ اور برادرانہ رنگ میں بندہ کے مکان پر تشریف لاتے۔گھر یلو قسم کے اونی ادنی معاملات پر گفتگو فرماتے اور ہر چھوٹے بڑے امر میں دلچسپی لیتے۔آپ کی ذات میں میں نے بہترین قسم کا ساتھی ، ہر کام کا عمدہ مشیر اور ہر دکھ میں بہترین غمگسار پایا بندہ کو علمی رنگ میں بھی آپ سے دو دفعہ خصوصیت کے ساتھ استفاضہ حاصل کرنے کا موقع پیش آیا۔دو مضمونوں کی تیاری کے لئے میں نے آپ سے امداد چاہی۔آپ نے نہ صرف بغیر سوچنے کے ان مضمونوں کے لئے مجھے ضروری مصالح بہم پہنچا دیار گیا ان مضمونوں کے متعلق تمام معلومات پہلے ہی سے ان کے دماغ میں موجود تھیں ، بلکہ جو مصالح انہوں نے بہم پہنچایا وہ صرف عام باتو شتمل نہیں تھا بلکہ نہایت ہی قیمتی اور نادر نکات پرمشتمل تھا لے -۴- حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری نے فرمایا :- "حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحق صاحب دونوں بھائی اپنے رنگ میں بے نظیر تھے اور سلسلے کے آفتاب و ماہتاب تھے۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب نہایت منتقی اور نہایت متواضع تھے۔مخلوق خدا کی دینی و دنیوی مدد کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔اپنی تکلیف نظر انداز کر کے بھی دوسروں کا کام کر دینا اُن کی عادت تھی ہو شخص ایک بارہ آپ سے ملتا تھا ہمیشہ آپ سے دوبارہ ملنے اور بائیں کرنے کی خواہش رکھتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کو ایک خاص قسم کا تعلق تھا آپ کی نظر بہت باریک بین تھی " ہے ابوالبرکات حضرت مولانا غلام رسول صاحب قدسی را جیکی نے آپ کے فضائل و مناقب ایک مفصل مضمون لکھا جس میں تحریر کیا کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے وجود با سجود میں دونوں طرح کے نمونے اس اعلی مقصد حیات کے بشان اصلی نمایاں طور پر پائے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور - الفصل ۲۴ وقا/ جولائی مش صفحه ۰۴ 1902 +