تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 717 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 717

** علیہ السلام کے باغ میں پہنچا تو حضرت امیر المومنین نے اپنی نگرانی میں صفوں کو درست کرایا اور پھر ایک بہت بڑے مجمعے کے ہمراہ جو انیس لمبی صفوں پرمشتمل تھا نماز جنازہ ادا فرمائی نماز جنازہ میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد کا اندازہ چھے اور سات ہزار کے درمیان ہے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے اپنے دست مبارک سے کفن کا منہ کھولا اور حضر میر صاحب کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اور پھر خاندان مسیح موعود کے دیگر افراد نے باری باری بوسہ دیا۔اس کے بعد حضور جنازہ کے قریب ہی زمین پر خدام کے ہمراہ تشریف فرما ہو گئے اور احباب کو تنظیم کے ماتحت حضرت میر صاحب کا چہرہ آخری بار دیکھنے کا موقعہ دیا گیا۔آپ کا چہرہ با وجود طویل علالت کے بہت با رونق شگفتہ اور نورانی نظر آتا تھا۔بعد ازاں جنازہ اُٹھایا گیا۔حضرت امیر المومنین نے قبر تک نعش کو کندھا دیا حضور خود قبر میں اُتمہ ہے اور میر داؤد احمد صاحب ابن حضرت میر محمد اسحق صاحب اور میر سید احمد صاحب ابن حضرت میر محمد اسمعیل صاحب نے نعش کو لحد میں اتارا بحضرت میر صاحب کی قبر میں حضور نے اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی۔قبر تیار ہو جانے پر حضور نے دعا فرمائی اور پھر واپس تشریف ے آئے ہے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب سلسلہ کے چوٹی کے بزرگ ولی اللہ، نہایت بلند پایہ صحابی اور ایک زبر دست ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔آپ کا انتقال ایک زبر دست قومی صدمہ تھا جس کو جماعت احمدیہ نے عموماً اور صحاً میسج موعود نے خصوصاً بہت محسوس کیا اور آپ کی رفتار پر نہایت گہرے رنج و غم کا اظہار کیا بطور مثال صرف تین اکا بر صحابہ کے تاثرات درج ذیل کئے بجاتے ہیں :- - حضرت مولوی شیر علی صاحب نے تحریر فرمایا :- حضرت ڈاکٹر میر صاحب مرحوم کے ریٹائر ہو کر قادیان آنے کے وقت سے باقاعدہ آپ کی ہمسائیگی بندہ کو میسر آئی۔اس عارضی اور مستعار زندگی کے دوران میں آپ نے ہمسائیگی کے تعلق کو جس نوبی اور عمدگی سے نباہا ہے بندہ اس کے بیان سے اپنے آپ کو جائنہ پاتا ہے۔آپ ان تمام حقوق کی ادائیگی میں جن کو کہ اسلامی شریعیت ایک مسلمان ہمسایہ پر واجب قرار دیتی ہے نہایت ہی اسلئے بلند پایہ اخلاق پر قائم تھے یہانتک کہ بندہ نے دیکھا کہ آپ کی طرف سے ہمسائیگی کا تعلق له " الفضل " ۲۱ جولائی ۱۳۳۶ ش صفحه ۴ :