تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 716 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 716

749 حالت پر تبصرہ کر رہے تھے کہ اچانک اندر سے آواز آئی کہ جلدی آئیں حالت خطر ناک ہے۔اس پر حضور مع ڈاکٹر صاحب اندر تشریف لے گئے۔دیکھا کہ حضرت میر صاحب کا سانس اکھڑ رہا ہے اور تبعض بالکل بند ہے سات بجکر چالیس منٹ پر آپ نے آخری سانس لیا۔آہ ! وہ سانس کیا تھا ، صرف مبارک اور پیار ہے لبوں کی آخری معمولی سی جنبش تھی اور قلب کی حرکت ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی۔انا للہ و انا الیہ راجعون اس سانحہ ارتحال کے بعد حضرت مصلح موعود نے وضو فرما کر خدام کو نماز مغرب پڑھائی اور حضور نے آپ کی وصیت کے مطابق فیصلہ فرمایا کہ آپ کو حضرت نانی اماں کی قبر اور دیوار کے درمیان قطعہ خاص میں جگہ دی جائے۔پھر حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا میں شام کے قریب ڈاکٹر شاہنواز خاں۔ناقل ) صاحب کو ساتھ لے کر ٹہل رہا تھا کہ میری نگاہ سامنے کے مکان پر پڑی جہاں زرد سی دھوپ نظر آرہی تھی گویا تین چار منٹ سورج غروب ہونے میں تھے۔اس وقت میں نے اس خیال سے کہ شاید میر صاحب کی طبیعت پر کسی خواب کی بناء پر یہ اثر ہو کہ جمعہ وفات کا دن ہے اور اگر یہ تین چار منٹ خیریت سے گذر جائیں تو ایک ہفتہ (یعنی اگلے جمعہ تک ) زندگی اور بڑھ سکتی ہے دعا کرنی شروع کی مگر جلد ہی اندر سے بلاوا آگیا کہ میر صاحب کا سانس اکھڑ رہا ہے" ہے حضرت میر صاحب کی المناک وفات کی خبر آناً فاناً قادیان کے گوشے گوشے میں پھیل گئی اور بہت سے احباب آپ کی کو بھی پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔آپ نے عرصہ ہوا اپنی تجہیز وتکفین سے متعلق خود مفصل ہرایات وصیت کے طور پر تحریر فرما دی تھیں حتی کہ اپنے کفن کا بھی انتظام فرما لیا تھا۔چنانچہ رات ہی کو آپ کی وصیت کے مطابق حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی ، جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی اور جناب حکیم عبد اللطیف صاحب گجراتی نے آپ کو غسل دیا اور تجہیز و تکفین کی۔اگلے دن ( وار وفا جولائی کو صدر انجین احمدیہ کے تمام دفاتحہ اور تعلیمی اداروں میں تعطیل کردی گئی۔صبح ہی سے احباب اور خواتین آپ کی کو بھی پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔آٹھ بجے کے قریب سیدنا حضرت امیر المومنین بھی تشریف لے آئے۔اور ایک بڑے مجمع کے درمیان آپ کا جنازہ اُٹھایا گیا۔راستے میں مجمع ہر لمحہ بڑھتا چلا گیا۔ہر شخص جناندہ کو کندھا دینے اور اس طرح ایک ایسے وجود کا آخری حق الخدمت ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو عمر بھر نہایت بے نفسی کے ساتھ بنی نوع انسان کی دینی اور دنیوی خدمت کرتا رہا جب جنازہ حضرت مسیح موعود له الفضل" و ظهور اگست میش صفحه ۷-۵ ( ملخصا از مضمون ڈاکٹر کیپٹن شاہنواز خانصاحب) + "