تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 704 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 704

YAA حضر بابو عبد الرحمن صا اغير جما احمد ان اما الام الحمد النبه حضرت با لبو عبد الرحمن صاحب انبالوی اپنی سوانخ اور قبول احمدیت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔مجھ کو میرے والد مرحوم مغفور سے معلوم ہوا کہ انداز یہ عاجز شائر میں پیدا ہوا یعنی غدیر دھلی اد سے نو سال بعد۔۔۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب انبالہ چھاؤنی تشریف لائے تھے تو والد صاحب مرحوم بھی حضور کی زیارت کو گئے تھے۔اس وقت حضرت صاحب نے دعویٰ نہیں کیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ والد صاحب نے آکر فرمایا کہ مرزا صاحب اہل حدیث کے بڑے جید عالم حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے حضرت بابو صاحب کا جنازہ غائب بھی ہر ماہ شہادت اپریل کو نماز جمعہ کے بعد پڑھایا اور خطبہ ثانیہ میں سب سے اول آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- بابو عبد الرحمن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے پرانے صحابی تھے اور نہایت نیک اور مخلص انسان تھے منشی رستم علی صاحب کی تبلیغ سے آپ احمدی ہوئے اور پھر اس کے بعد تمام عمر جماعت کی تربیت میں مصروف رہے۔ان کی زندگی نیکی اور تقویٰ کی ایک مثال تھی۔ایسے لوگوں کا گذر جانا قوم کے لئے ابتلاء کا موجب ہوتا ہے اور آنے والی نسلوں کا فرض ہوتا ہے کہ ان کی یاد کو اپنے دلوں میں تازہ رکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور ان کے روحانی وجود کو دنیا میں قائم رکھیں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ سید درشاه غضنفر احمدیت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب صاحب جنہیں حضرت مسیح موعود نے اعجاز احمدی میں " غضنفر" (شیر) کے لقب سے ملقب فرمایا حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی کی اولاد میں سے تھے۔اس خاندان کی شاخیں خانیار (کشمیر)، داتہ سمجی کوٹ ، پیرکوٹ ، پشاور ، مظفر آباد، بقیه حاشیه صفحه گذشتہ) موقعہ پر بھی وہ میرے ساتھ کھڑے تھے کہ گجرات کے ایک احمدی آگے بڑھے اور انہیں پیچھے دھکیل کر کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو تویہ موقع روز ملتا ہے۔ہم لوگ دور سے آتے ہیں ہمیں بھی حضور کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع دیں۔اب گجرات قادیان سے ۸۰۰۷۰ میل پر واقعہ ہے اور حیدر آباد دکن اور قادیان کے درمیان ہزارہ بارہ سو میل کا فاصلہ ہے لیکن انہوں نے بغیر تحقیقات کے اسے اپنا حق سمجھ لیا " ر الفضل " ۲۹ شہادت / اپریل الفضل ۲ ہجرت اسی ۳ ریش صفحه ۲ : القيها المتصل دور يتوعد اوری ۶۱۹۶۱ )