تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 700 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 700

ساتھ ترقی نہیں کر سکے گا۔اگر یہی جوش و خروش رہا تو ملک کا چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو جانا کوئی بعید از قیاس بات نہیں۔در حقیقت یہ تقسیم ایسے رنگ میں ہونی چاہیئے کہ ملک کے باشندوں کے لئے آرام دہ اور نفع مند ثابت ہو لیکن جیسا کہ میں نے اس سے قبل کئی دفعہ بنایا ہے ان باتومیں سہارا کوئی فصل نہیں کیونکہ ہم تو ایک اقلیت ہیں اور فیصلہ اکثریت نے کرنا ہے۔۔ہم جو بات سیاسی مشورہ کے طور پر بیان کرتے ہیں وہ محض لوگوں کی بہتری اور بہبودی کے لئے بیان کرتے ہیں ورنہ سیاسی طور پر ہم اسے جار ہی نہیں کر سکتے۔کیونکہ اگر بہار کی جماعت سیاسی کاموں میں لگ جائے تو دین کا مانہ خالی رہ جائے اور مذہب کا پہلو کزور ہو جائے کے ازانی بعد حضور نے احمدی بالغ مردوں اور عورتوں کو با قاعدہ تہجد پڑھنے اور دعائیں کرنے کی خصوصی تحریک کی چنانچہ فرمایا :- ان حالات میں ہمارے لئے صرف ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دوارات دعائیں کریں جیسا کہ آج تک ہموار کا جماعت ایسے نازک موقعوں پر ہمیشہ دعائیں کرتی رہی ہے اور اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کی دعاؤں کو قبول فرمایا ہے یہ موقع بھی نہایت نازک مواقع میں سے ہے اس لئے تمام ست کو مستزام کے ساتھ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تو ہے ہمارے ملک کو ان نا قابل برداشت فتنوں سے بچائے عام طور پر ہمارے ملک کے لوگ مخرا فیبہ سے نا واقف ہیں اور اس وجہ سے وہ ایسی باتوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے اب بھی جو صورت حارات پیدا ہونے والی ہے آپ لوگ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔کیونکہ آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نقشے نہیں لیکن میری آنکھوں کے سامنے سب نقشے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ کس میدان میں لڑائی لڑی جارہی ہے اگر اس قسم کے خطرناک اقدام کئے گئے تو اس سے دونوں فریق ہی نقصان اٹھا ئیں گے۔میں سمجھنا ہوں کہ ملک کے بٹوارے سے زیادہ مصیبت ان حد بندیوں کی وجہ سے پیدا ہو گی اور ملک کی آزادی پہلی غلامی سے بھی بدتر ہو گی۔۔۔حکومتوں کیا تبدیلی عوام الناس پر اتنی اللہ اندازہ نہیں ہوتی جتنی کہ سرحدوں کی تبدیلی ان پر اثرانداز ہوتی ہے اس قسم کے بٹوارے کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسا کہ دو ہاتھوں کی انگلیوں کو پیچھی پیوست کر دیا جائے۔پس ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھی میں کرنی چاہئیں بلکہ تمام بالغ مرد اور عور توں کو تہجد کیلئے اٹھنا چاہیئے اور اگر زیادہ نہیں تو دو نفل ہی پڑھ لینے چاہئیں اور جومرد اور عورتیں اس پہلے تہجد نہیں پڑھتے انہیں با قاعدگی کے ساتھ تہجد پڑھنی شروع کر دینی چاہئیے اور نہ مہینوں تضرع اور عا بندی کے ساتھ اللہ تعالٰی سے یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ان مشکلات کا حل پیدا کرے اور یہ مصیبیت ہمارے ملک کے لئے باعث رحمت بن جائے ہے الفضل ۱۲ را حال مل۱۳۹۲ )