تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 689
۶۷۳ نے تنقیدی رنگ میں جو کچھ لکھا ہے۔اسے بھی ما نظر رکھا ہے۔اگر صرف ترجمہ پر نظر ڈالی ہے تو کہنا پڑتا ہے۔کہ ترجمہ کی انگریزی غلطیوں سے پاک اور بیری پروتا ہے۔تفسیر پہلے جو دیباچہ ہے۔وہ ۲۷۵ بڑے سائز کے صفحات کا ہے اس کی چھپاتی باریک ٹائپ کی ہے اس میں نہیں اسلام حضرت محمدؐ کی پوری سوانح عمری درج ہے۔قرآن شریف کسی طرح نازل ہوا۔اور پھر کس طرح موجودہ شکل میں جمع ہوا۔اس کی تاریخ دی گئی۔اصولی تعلیمات قرآن کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔غیر مسلم معترضین کے اعتراضوں کا رد بھی اس میں ہے۔اور دوسرے مذاہب پر مناسب تنقید بھی غیر مسلم پڑھنے والوں کو اس کے کئی بھے کی طر فہ اور متر فضا رنگ ٹے ہوئے معلوم ہونگے۔لیکن یا دور ہے یہ حصے بھی خلوص نیت سے لکھے گئے ہیں۔اور نہایت توجہ سے پڑھے جانے کے لائق ہیں۔ان سے پتہ لگتا ہے کہ متقی اور اہل علم سلمان جب دو کمر مذاہب کی روائتی تعلیموں پر اعتراض کرتے ہیں۔تو ایسا کیوں کرتے ہیں۔اس ترجمہ اور تفسیر کی پہلی ملدا ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے۔جبکہ جماعت احمدیہ ہندوستان میں شدید آدم مصائب کا شکار ہو رہی ہے۔ان مجنونانہ مظالم کی داستان زیادہ لوگوں کو معلوم ہونی چاہئیے۔ہندوستان میں اقتدار کی منتقلی کا بھیانک پہلو یہی مظالم ہیں۔لیکن جس طرح جماعت احمدیہ نے ان مظالم کا مقابلہ کیا۔اس سے اُس صبر اور ثبات اور شجاعت کا ثبوت فنا ہے جو اس جماعت کا شروع ہی سے طرۂ امتیاز رہا ہے دنیا بھر کے نیک خیال لوگ دل سے چاہیں گے کہ یہ شاندار ترجمہ وتفسیر جلد تکمیل کو پہنچے۔علم اور تحقیق اور مہمیت کے اس شاہ کار کو کونی ہے جو قدر کی نگاہ سے نہ دیکھے گا ؟ یہ شاندار کام حضرت مرزا بشیر الدین محسود کی زیر نگرانی سرانجام پایا ہے۔بین کو مسیح موعود کا دوسرا جانشین اور خلیفہ کہا جاتا ہے اسے صدر انجمن احمدیہ قادیان ہندوستان نے شائع کیا ہے۔ہمارے سامنے اس کی پہلی جلد ہے دو ملدیں اور شائع ہوں گی۔اس پہلی مجلد میں ۲۰۶ صفحات کا دییا چاہے۔میں میں قرآن شریف کا تعارف کرایا گیا ہے۔دیباچہ کے بعد 140 صفحات میں آمنے سامنے کالموں میں متن قرآن اور اس کا انگریزی ترجمہ اور تفسیری نوٹ رحل لعات اور معانی دونوں پرمشتمل درج کئے گئے ہیں۔گویا ناظرین کے لئے قرآن فہمی کا بیش بہا سامان مہیا کیا گیا۔