تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 688
نے 1910ء میں شروع کیا تھا وہ قریباً پچاس سال کی مسلسل سعی و کوشش کے یہ حضرت ملک غلام فرید صاحب کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچا ہے مغربی مفکرین کے تاثرات انگریزی تفسیر قرآن کے دینی اور ادبی میان نے پورپ اور امریکہ کے چوٹی کے اہل علم کو متاثر کیا ہے اور انہوں نے اس پر شاندار ریویو کئے ہیں۔مثلا مسٹر اے جی آر بری نے لکھا:۔قرآن شریف کا یہ نیا ترجمہ اور تفسیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔موجودہ سیلد اس کا نام کی گویا پہلی منزل ہے۔کوئی پندرہ سال کا عرصہ ہوا جماعت احمدیہ قادیان کے محقق علماء نے یہ عظیم الشان کام شروع کیا اور کام حضرت اقدس مرزا بشیر الدین محمود احمد کی حوصلہ انتہا قیادت میں ہوتا رہا۔کام بہت بلند قسم کا تھا۔یعنی یہ کہ قرآن شریف کے متن کی ایک ایسی ایڈیشن شائع کی جائے۔یہیں کے ساتھ ساتھ اس کا نہایت صحیح صحیح انگریزی ترجمہ ہو اور ترجمہ کے ساتھ آیت آیت کی تفسیر ہوا پہلی جلد جو اس وقت سامنے ہے۔قرآن شریف کی پہلی نو سورتوں پر مشتمل ہے۔شروع میں ایک طویل دیباچہ ہے جو خود حضرت مرزا بشیر الدین نے رقم فرمایا ہے اس دنیا چہ میں حضرت اقدس نے لکھا ہے۔کہ جو کچھ اس تفسیر میں بیان ہوا ہے۔وہ ان معارف کی ترجمانی ہے۔جو ہائی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتابوں اور مواعظ میں بیان فرماہے یا پھر آپ کے خلیفہ اول یا نود و حضرت ممدوح نے ہو بانی سلد کے خلیفہ ثانی ہیں بیان فرمائے۔اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں۔کہ یہ ترجمہ اور یہ تفسیر جماعت احمدیہ کے فہم قرآن کی صحیح ترجمانی کرنے والی ہے۔موجودہ جلد کے بعد دو جلدیں اور شائع ہو کہ یہ کام پائیں پنچ جائیگا، اگر ہم اس کام کو اسلام کے ذوق علم تحقیق کی عظیم تحقیق کی عظیم یاد گار کہکہ پیش کریں تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔اس کی تیاری کے ہر مرحلہ پر مستند کتب تفسیر و لغت در تاریخ و غیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ان کتب کی طویل فہرست پڑھنے والے کو متاثر کرتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ اس ترجمہ و تفسیر کے تیار کرنے والوں نے نہ صرف تمام مشہور عربی تفسیروں کو زیر مطالعہ رکھا ہے۔بلکہ ان کے ساتھ ساتھ یور میں مستشرقین ن حیات قمر الانبياء صفحه ۱ تا ۱۲۳ مولفہ مولانا شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پہنچانا شر ما احد کی بھی رام گل نمبر را دار طبع اول م