تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 53
۵۳ دیکھا ہے جب افسروں کو اس طرف توجہ دلائی گئی تو اس کے بعد ہمیں سکول میں سے ہی ایسے گئی لڑکے بل گئے جنہوں نے اپنی زندگیاں سلسلہ کی قدامت کے لئے وقف کر دیں۔یکیں امید کرتا ہوں کہ یہی طریق کالج میں بھی اختیار کیا جائے گا تا کہ بو طالب علم اس کالج سے تعلیم پا کر نکلیں ان کے متعلق ہمیں کامل یقین ہو کہ وہ تعلیم کے بعد دین کے میدان میں ہی آئیں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ دنیا کمانے میں مشغول ہو جائیں۔اور تاکہ ہم فخر سے کہہ سکیں کہ ہمارے کالج کا ہر طالب علم اپنے آپ کو دینی خدمت کے لئے پیش کر دیتا ہے۔صرف ہمارے بچے ہوئے طالب علم ہی دنیا کی طرف جاتے ہیں۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ خواہ ہم کوئی کام کریں ہماری اصل دوڑ مذہب کی طرف ہی ہونی چاہیئے۔اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالے ہماری نیک خواہشات کو پورا فرمائے۔اور یہ بیج جو آج اس مقام پر ہم بو رہے ہیں اس سے ایک دن ایسا درخت پیدا ہو جس کی ایک ایک ٹہنی ایک بڑی یونیورسٹی ہو، ایک ایک پتہ کالج ہو اور ایک ایک پھول اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کی ایک اعلی درجہ کی بنیاد ہو جس کے ذریعہ گھر اور بدعت دنیا سے مٹ جائے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت اور خدا تعالے کی ہستی اور اس کی وحدانیت کا یقین لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے - TAKEN AT ANNAT " فضل عمر سانس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ حضرت سید الصلح الموعود نے تعلیم اسلام کالی کے ساتھ سائنسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بھی بنیاد رکھی اور اس کی نگرانی کا قیام اور اس کے اعتراض مقاصد چودھری عبدا رد صاحب ایم ایس سی کے سپرد فرمائی۔عبدالاحد اس زمانہ میں اس نوعیت کے متعدد تحقیقاتی ادارے قائم تھے۔بنگال میں ڈاکٹر بوس کی اسٹی ٹیوٹ تھی۔اسی طرح الہ آباد یا بنارس یونیورسٹی کی طرف سے بھی کام ہو رہا تھا یہ گلور میں میسور گورنمنٹ کی طرف سے ایک اسلئے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تھی۔دہلی میں مرکزی حکومت کی انسٹی ٹیوٹ تھی۔مگر یہ سب ادارے یا حکومت کی طرت سے جاری تھے یا یونیورسٹیوں کی طرف سے یا ہندوؤں کی طرف سے۔کروڑوں کی تعداد میں لینے کی الفضل ۱۳-۱۲-۱۵ - ۱۹ صلح جنوری رش- یہ تقریر تعلیم کا سلام کالج کے قیام کی غرض و غایت ها ( کے عنوان سے الگ بھی چھپ چکی ہے۔