تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 674
407 کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں کوئی اور ہی طریق اختیار کر نے ہوں گے۔سو اس کے لئے جماعت سے میرا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ دوست بن کی یہ قوم یا ہر بنکوں میں جمع ہیں وہ بطور استند قادیان بھیجد ہیں۔تاکہ سلسلہ کو اگر کوئی فوری ضرورت پڑے تو اس میں سے خرچ کر سکے۔اور پھر آہستہ آہستہ اس کمی کو پورا کر دے۔یہ رقوم بطور امانت کے ہوں گی اور بوقت ضرورت واپس مل سکیں گی۔اس طرح سلسلہ کی ضرورت بھی پوری ہو جائیگی۔اور آپ لوگوں کے ایمان کا امتحان بھی ہو جائے گا۔جو دوست اس تحریک پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوں۔وہ اپنے نام اور ر قوم لکھا دیں۔حضور کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا ہی تھا کہ مخلصین نے نہایت ذوق و شوق سے اپنے نام لکھا نے شروع کر دئے۔ہر چہرہ سے یہی اضطراب تظاہر ہوتا تھا کہ وہ دوسروں سے سبقت لینا چاہتا ہے اور ہر دل مضطر تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقوم اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دے۔قریباً نصف گھنٹہ کے عرصہ میں ۱۰۰۰ ۳۷ روپے کے وعدے ہوتے ہیں کا حضور نے کھڑے ہو کہ اعلان کیا اور فرمایا اور بھی کچھے دوست رہتے ہیں۔جو سوچ رہے ہونگے اور اکثر ایسے بھی ہیں جنہوں نے مشورہ وغیرہ کرنا ہوگا۔اور ابھی ہزاروں ہزار دوست ایسے ہیں جو ہم سے کسی طرح اخلاص میں بکم نہیں ہیں مگر وہ اس وقت دور بیٹھے ہیں۔جب آپ لوگ جھا کہ ان کو اطلاع دیں گے تو وہ کبھی بھی آپ سے پیچھے نہ رہیں گے اور مسکن ہے مطلوبہ رقم سے بہت زیاد در و پیہ جمع ہو جائے کہ اس کے بعد فرمایا سب سے پہلے میں جائداد کے وقعت کو لیتا ہوں جو خدا تعالے کے الہام کے ماتحت جاری کیا گیا ہے۔مگر میں نہایت افسوس سے کہتا ہوں کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔اور صرف دو ہزار ادیوں کے سوا کہ اس میں حصہ لیا ہے۔حالانکہ لاکھوں کی حیات ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے لاکھوں ہی کو رخصت کرنا چاہیئے تھا۔آپ میں سے جن دوستوں نے اپنی آمد یا جائداد وقت کی ہوئی ہے وہ کھڑے ہو جائیں کہ اس پر ۵۵ام میں سے جو ہال میں تھے صرف 14 کھڑے ہوئے ) فرمایا یہ تعداد ہے جو ۳۵ فیصدی کے قریب نیتی ہے۔اس پہ دوسری جماعت کا بھی اندازہ کر لیں۔آپ میں سے بہو لوگ اس وقت وقعت