تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 669
407 ہو کہ سور دس بجے صبح حیدر آباد پہنچے کہ یہاں سے ساڑھے بارہ بجے کے قریب مع قافلہ سندھ ایک پریس میں سوار ہوئے۔پڑون اسٹیشن پر کنال ڈیرہ جمال پور شریف آباد، فارم کولہیہ کا کھنڈ - درسیہ ہوئی۔باندھی ا کہ کینڈی مصر می واہ۔وغیرہ کے مخلصین جماعت کے علاوہ متعدد غیر احمدی دوست بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔جماعت کی طرف سے معزز مہمانوں کی خدمت میں سوڈاور پیش کیا گیا۔بعض دوستوں نے حضرت امیر المومنین کا تبرک حاصل کرنے کے لئے شربت کے گلاس پیش کرنے شروع کئے۔یہ مسلہ لمبا ہوتا چلا گیا۔مگر حضور نے ہر پیشکش کو نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا۔گاڑی روانہ ہونے کو تھی مگر اعدام اپنے آقا کے گرد گھیرا ڈالے بدستور کھڑے تھے وہ اس تھوڑے سے وقت میں اپنے پیارے آقا کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنا چاہتے تھے گاڑی کے روانہ ہو چکتے پر اس مختصر سی ملاقات کونا کافی سمجھ کر انہوں نے ساتھ ساتھ دوڑنا شروع کر دیا مگر ان کی خواہشات اور ان کے جذبات کے خلاف گاڑی بہت جلد آگے نکل گئی۔والہانہ عقیدت کا یہ منظر قریبا ہر سٹیشن پے جہاں گاڑی کھڑی ہوئی ، نظر آتا۔نواب شاہ کے اسٹیشن پر بھی اردگرد کی جماعتوں کے بہت سے دوست موجود تھے۔چوہدری محمد سعید صاحب نے حضور کی خدمت میں دو پہر کا کھانا پیش کیا۔ور بجے کے قریب گاڑی روہڑی پہنچی ہے جہاں سے موڑ کا روں پکھر تشریف لائے اور سید غلام مرتضیٰ شاہ صاحب ایگزیکٹو انجینیر کے بنگلہ پر قیام فرمایا۔سکھر میں باڈہ ، کنیٹ، روپڑی، موجودی د کمال دیر و آگره، شریف آباد فارم ریاض اسٹیٹ اور کوئٹہ سے انحباب جماعت مرد اور عورتیں ڈیڑھ سو کے قریب حضور کی زیارت اور ملاقات کے لئے حاضر ہوئے رات کو جماعت سکھر کی طرف سے ایک دعوت طعام کا انتظام کیا گیا۔جس میں شہر کے معززین اور سرکاری عہدیداران خاص طور پر مدعو تھے۔حضور نے اس موقعہ پر تقریبا ه الفضل الشہادت ٣٢ الفقره اشہادت / اپریل مهر ۱۳۳۶ صفحه ۲