تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 668 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 668

۶۵۲ ڈالیں تو وہ مسلمان ہو سکتے ہیں۔اور اس وقت سندھ میں ہندؤوں کی ہجو آبادی نہایت سرعت سے بڑھ رہی ہے وہ رک جائے۔اصل وجہ یہ ہے کہ جب یہ قومیں باہر سے آتی ہیں۔تو مہندو انہیں ہتیا لیتے ہیں۔حالانکہ وہ شاملات زمین کی طرح ہیں۔ہر مذہب ان پر آسانی سے قبضہ کر سکتا ہے۔مگر مہندو فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور مسلمان تو محبہ نہیں کرتے اسی وجہ سے ہندوؤں کی آبادی روز بروز سندھ میں بڑھتی جاتی ہے۔اگر مسلمانو نے اس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے اس کا تدارک نہ کیا۔تو سندھ میں بھی مسلمان اقلیت ہو جائیں گے۔ان اقوام کے ساتھ کھانا کھانے کے ذکر میں حضور نے فرمایا کہ اگر یہ مسلمان ہو جائیں پھر ضرور کھانا چاہیئے۔بلکہ نمایاں طور پر ایسے مواقع پیدا کرنے چاہئیں تاکہ دوسروں کو بھی ہمدردی حاصل ہو اور تبلیغ میں آسانی ہو۔سلسلہ گفتگو کے دوران ہندو مسلم فسادات کا بھی ذکر آیا جس پر حضور نے فرمایا مسلمانوں میں تنظیم کی بہت کمی ہے اور اس موقعہ یہ ان کی کوئی تیاری نہ تھی۔معلوم ہوتا ہے۔اللہ انہیں منائے نہیں کرنا چاہتا۔بلکہ انہیں زندہ رکھنا چاہتا ہے با ہو اسکے کہ سکھوں اور ہند موں کی بہت تیار کی تھی انہوں نے امرتسر میں جو ان کا مرکز تھا مسلمانوں سے بہت زک اٹھائی۔اصل بات یہ ہے کہ مسلمان ایمان اور تنظیم کی طرف توجہ نہیں کہ تھے ورنہ خدا نے انہیں طاقت دی ہے۔تقریباً ہر جگہ فسادات میں پیل سکھوں یا ہند نوں کی طرف ہوئی ہے۔جس سے پتہ لگتا ہے انہیں اپنی طاقت کا بہت زعم تھی۔گاڑی آنے پر حضور مع خاندان و خدام ان میں سوار ہو گئے شام کے قریب گاڑی راستہ چھوڑ میر اوپر خاص پہنچی جہاں احمدی احباب استقبال کے لئے موجود تھے کار پر سوار ہو کہ حضور بیع فاقد جناب ہندی حسین شاہ صاحب کے بنگلہ پر تشریف لے گئے جہاں طعام و رہائش کا خاطر خواہ انتظام تھا شین گلر کے وسیع احاطہ میں نماز مغرب وعشاء جمع کرنے کے بعد حضور خدام کے درمیان ہی تشریف فرما ہے اور ونیک مقامی امور کے متعلق گفتگو فڑاتے رہے اور سندھ میں نئی زمینوں کے متعلق مبادلہ خیالات فرماتے رہے۔۳۰ تا رچ کو صلى الصبح حضور مع خاندان بذریعہ کا یہ سٹیشن پر پہنچے گاڑی میں سو اللہ