تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 667
کرتے یہ ہے اور حضور نیز حضور کے اہل بیت اور دیگر خدام کی مہمان نوازی میں مصروف رہے ہے اگلے روز ۲۲ رامان کر بار بچے کو حضور مع قافلہ محمد آباد سے دوبارہ ناصر آباد میں رونق افروز ہوتے ہے اور ماورامان / مارچ تک قیام پذیہ رہے۔سفر میں شروع ہی سے حضور کو دانت درد کی تکلیف تھی جو ۲۸ ر امان کو بہت شدت اختیار کر گئی۔مگر اس کے باوجود حضور اس رود تین گھنٹہ تک سندھ اسٹیٹ کے معاملات کے انتظام اور ترقیات کے متعلق منیجر صاحبان اور دیگر کارکنوں سے تبادلہ خیالات کرنے اور ہدایات دینے میں مصروف رہے پھر خطبه جمعه ارشاد و فرمایا جس میں دین کے لئے قربانی کرنے پر بہت زور دیا۔نماز جمعہ کے بعد پیار اصحاب داخل احمدینہ ہوئے۔نماز جمعہ میں کنری محمود آباد اور دیگر اسٹیٹ کے احمدی احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی سے + کیجیجی سے سکھر تک و رامان / مارچ را واپسی کا دن تھا۔اس روز حضور مع خاندان کار میں سوار ہو کر پونے چار بجے کے قریب کنیچی سٹیشن پر تشریف لائے اور سمافر خانہ میں نماز ظہر و عصر جمع کیں۔نمازوں کے بعد منصور خدام کے درمیان رونق افروز ہو کہ مختلف معالات کے متعلق اظہار خیال فرماتے رہے۔اس موقعہ پر دو دوستوں نے محبت بھی کی۔دوران گفتگو میں سندھ میں بسنے والی نہیچ اقوام میں تبلیغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ پیچ اقوام مثلاً بھیل، کو علی و غیره مستان کی پرانی اور اصلی قومیں ہیں جو ہندووں کے ظلم و تعدی کی وجہ سے اس ذلت کو پہنچی ہیں۔اس وقت انہیں اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔مسلمان اگر ان میں تبلیغ کریں۔اور حسن سلوک سے پیش آئیں۔تو وہ بہت جلد اسلام کو قبول کہ سکتی ہیں۔ان کا اپنا مذہت تی نہیں ہے۔ہند و صرف سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے انہیں اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں حالانکہ وہ ان کے ہفتہ کارے ہوئے ہیں۔اور ان کے مظالم کی بات ہی اس حالت تک پہنچے ہیں۔مسند عہد میں مسلمانوں کے اکثر مزار میں یہی لوگ ہیں۔اگر وہ ان پر ذرا سا بھی دباؤ له الفصل ۲۳ امان / مارچ صفحها ۱۳:۲۰ صفرا له الفضل ۲۵ امان ماده همود سه الفضل کم شہادت پر مل استار مش صفحه / اپریل 31577 به اصفر