تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 657 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 657

الم به ہمیں کیوں بے در اور بے گھر کر تے ہو نگہ اُس وقت غصہ کی وجہ سے کسی کو اُن درد بھرے الفاظ کی پروا نہ ہوتی تھی اور یہ صرف اس لئے ہوتا رہا کہ خدائی فیصلہ صاد ہو چکا تھا کہ آگ کی لڑائی لڑی جائے اور یہ ایک اٹل فیصلہ تھا جو بچھوؤں کی سی ذہنیت والوں کے لئے مقدر ہو چکا تھا۔پس آگ کی لڑائی ہوئی اور ایسی ہوئی کہ اس نے بہت سے شہروں کو بھسم کر کے رکھ دیا۔محلوں کے محلے اور گاؤں کے گاؤں تباہ د ویران ہو گئے اور منہ اتعالیٰ کی پیشگوئی نہایت عظیم الشان طور پر پوری ہوئی ہے نیز فرمایا " ہندوستان کی گذشتہ تاریخ اس کی مثال پیش کر نے سے قاصر ہے بلکہ دنیا کی تاریخ بھی اس آگ کی کوئی نظیر نہیں پیش کر سکتی دُنیا کے کسی انسان کے وہم وگمان اور خیال میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ اتنی آگ لگے گیا کہ وہ شہروں کے شہر اور محلول کے محلے، بنیادہ کر دے گی۔جماعت احمدیہ کیلئے ایک اہم سبق اس نواب میں جماعت احمدیہ کو بھی ان اہم کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی تھی چنانچہ حضرت مصلح موعود نے اپنے اس خطبہ جمعہ کے آخر میں فرمایا کہ :۔خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ لڑائیاں اور فتنے اور فسادات سوائے قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے دُور نہیں ہو سکتے۔قرآن پڑھو کا صرف یہیں مطلب نہیں کہ قرآن کریم کھو کہ تلاوت کے لی جائے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے ہم کو تعلیم پر عمل کیا جائے اور اس کے محکمت بھرے احکام کی تمام دنیا میں اشاعت کی جائے کیونکہ یہ آگیں اس وقت تک مجھے نہیں سکتیں جب تک فطرتوں کے اندر تبدیلی پیدا نہ ہو جائے اور بنی نوع انسان کی صحیح معنوں میں اصلاح نہ ہو جائے اور ان کی فطرتوں کے اندر زیم ولی اور رحمدلی نہ پیدا ہو جائے"۔سے له الفضل ، وقار جولائی مش من له الفضل ، وقال جولائی مشق