تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 50
۵۰ انسٹی ٹیوٹ میں اس قسم کی باتیں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔پس ہمارے نوجوانوں کو خود بھی احمدیت کے نقش قدم پر چلنا چاہیے اور دوسرے نوجوانوں پر بھی واضح کرنا چاہیے کہ یہاں کوئی ایسا طریق برداشت نہیں کیا جا سکتا جو دین کے نعلات ہو اور مذ ہیں روایات کے منافی ہو۔ہم نے یہ کالج دین کی تائید کے لئے بتایا ہے۔اگر کسی وقت محسوس ہو کہ کالج بجائے دین کی تائید کرنے کے بیدینی کا ایک ذریعہ ثابت ہو رہا ہے تو ہم ہزار گنا یہ زیادہ بہتر سمجھینگے گر اس کا رنچ کو بند کر دیا بجائے اس کے کہ بید بینی اور خلاف مذہب حرکات کو برداشت کریں۔اس کالج کے پروفیسروں کو بھی یہ امر مد نظر رکھنا چاہئیے کہ بیرونی دنیا میں عام طور پر صداقت کو اس وقت سیک قبول نہیں کیا جاتا جب تک یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے لوگ اس بات کو پیش کر رہے ہیں۔اگر ایک مجتھہ کی طرف سے کوئی بات پیش کی جا رہی ہو تو اسے مان لیتے ہیں۔لیکن اگر ایک کمزور انسان کے منہ سے صداقت کی بات نکلے تو اس کی طرفت توبہ نہیں کرتے۔ہمیں اس طریق کے خلاف پر عمل کرنا چاہیئے کہ اگر صداقت صرف ایک لڑکے کے منہ سے نکلتی ہے تو ہم اس بات کا انتظار نہ کریں کہ جب تک تو ان کا اس کی تائید میں نہیں ہو گا ہم اُسے نہیں مانیں گے۔بلکہ نہیں فوراً وہ بات قبول کر لینی چاہیئے۔کیونکہ ملاقات کو قبول کرنے میں ہی برکت ہے اور صداقت کو قبول کرنے سے ہی قومی ترقی ہوتی ہے یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارا طریق سارے کا سارا اسلامی ہوتا چاہیئے۔بیشک ہندو، سکھ، عیسائی جو بھی آئیں ہمیں فراخدلی کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے ، مگر جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ان کے اخلاق سرتا پا مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں ان کی عادات مذہب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوں۔ان کے افکار مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔ان کے خیالات مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔پس جہاں ہمارے پرو فیسر ہو کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں وہاں ان کا ایک یہ کام بھی ہے کہ وہ رات دن اسی کام میں لگے رہیں کہ لڑکوں کے اخلاق اور اُن کی عادات اور اُن کے خیالات اور اُن کے افکار ایسے اعلیٰ ہوں کہ دوسروں کے لئے مذہبی لحاظ سے وہ ایک مثال اور نمونہ ہوں۔اگر بغدا تعالے کی توحید کا یقین ہم لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تو مہندوؤں اور سکھوں کو اس پر کوئی اختراش نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ہندہ کبھی بعدا کے قائل ہیں اور سکھ بھی خدا کے قائل ہیں۔اگر ہم دہریت