تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 650
نہیں اپنے مغربی مشنوں سے تبادلہ خیالات کر کے وہاں تجارت کو وسیع کیا جا سکے تو ا سے بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ہماری غرض عقل کے ساتھ سوچ کہ ساری دنیا کی تجارت پر قبضہ کرنا ہے اور کوشش کرنا ہے کہ تبلیغ اسلام اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے اس قدر دو پیر کا لیں کہ روپیہ اور مال کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو صرف سمادی آفات رہ جائیں ارضی آفات کا خاتمہ ہو جائے اور سماوری آفات دل کی اصطلاح ہے دورہ ہو سکتی ہیں ان کا دور کہنا آسان ہے کہ اس کا رو کنا رحیم و کریم خدا کے ہاتھ میں ہے۔افسروں کی اطاحت باقاعدہ رپورٹ کام کے اہم جزو ہیں جو اس میں غفلت کرتا ہے اس کا سب کام عیث جاتا ہے۔دعا عبادت ، دیانت۔امانت به محنت تعاون با ہمی ضروری امور ہیں۔ان کے بغیر دین نہیں دین کا چھلکا انسان کے پاکس ہوتا ہے۔اور کھل کا کوئی نفع نہیں دیتا۔والسلام خاکسار و دستخط (مبارک) مرنا محمو د احمد رضيفة السبع الثاني عامله فسادات پنجاب اورر انجاست مسلمان امرتسر کیلئے جامے کا لیف میپ جوں جوں انتقال اقتدار کے ایام قریب سے قریب تر آ رہے تھے ملک فرقہ والہانہ کشیدگی کے نئے سے نئے خونی چگہ میں پھنستا جا رہا تھا۔احمد آباد- بمبئی کلکتہ بہار اور گڑھ مکتبر کے لرزہ خیز واقعات ۱۹۴۷ ہ کے شروع میں جبکہ سور مار ے سے کو خضر وزارت مستعفی ہو گئی۔پنجاب میں بھی دوہرائے جانے لگے اور لاہور، امرتہ ملتان، گوجرانوالہ اور گوڑ گانوں میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اُٹھی۔خصوصاً امرتسر میں آتشزدگی کی ایسی خوفناک وارداتیں ہوئیں کہ ایک انگریز افسر نے ریجو دوسری جنگ کے دوران لنڈن میں تھا بیان کیا کہ امرتسر کی حالت لنڈن کے ہر اُس حصہ کی نسبت جس پر جنگ میں کہتیاروں کا مجموعی حملہ کیا گیا ہو بد تر تھی۔ہے ۲۶ : ۱۳ صفحہ سے سول اینڈ ملٹری گیٹ لاہور بون ۱۹۴۶ ا الفضل بدر صلح امارات