تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 651 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 651

۶۳۵ ان فسادات امرتسر کے پچاس ہزار کمانوں پر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔اس دردناک صورت حالات سے حضرت مصلح موعود بہت مضطرب اور مشوش ہوئے اور حضور نے خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ ایک ہزار مسلمانوں کے خور و نوش کا انتظام کرنے کے لئے فوری طور پر امرتسر میں ایک ریلیف کیمپ کھول دے اور اپنے مظلوم او رہے ہیں بھائیوں کی مدد و اعانت ہمیں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔چنانچه حضرت صا فیزاده مرند ( ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیه مرکز پر قادیان کی زیر نگرانی امرتسر میں یہ امدادی کیمپ قائم کیا گیا جوکئی ماہ تک نہایت اہم خدمات انجام دیتا رہا۔حضرت مصلح موعود نے صوبہ کے سر بر آور وہ احمدی اصحاب کو اپنے قلم مبارک سے اس کیمپ کی اعانت کے لئے ایک خاص مکتوب تخریبہ فرمایا میں سے جماعت احمدیہ کی امدادی سرگرمیوں کی نوعیت واہمیت کا اندازہ بھی لگ سکتا ہے۔حضور نے لکھا۔برادرم میکردم سلمكم الله تعالى السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ امرتسر میں مسلمانوں پر جو سختی ہوئی ہے وہ نا قابل بیان ہے پچاس ہزار مسلمان بے گھر بے درہیں اور نوکری سے محروم۔کھانے کو آٹا تک نہیں ملتا اگر ان کی امداد نہ کی گئی تو سب شہر چھوڑ کر دوڑ جائیں گے اور مسلمانوں کا سخت نقصان ہوگا۔ان حالات کو دیکھ کہ میں نے خدام الاحمدیہ کے سپرد یہ کام کیا ہے کہ مسلم لیگ سے شہر کا ایک حصہ لیکر اس کے ریلیف کا انتظام کریں۔یہ مصیبت اتنی بڑی ہے کہ شہر والوں کی طاقت سے باہر ہے اصل میں پنجاب کے سب ضلعوں اور تخمینوں کو چاہیئے تھا کہ مقامی لیگ کا اس امداد میں ہاتھ بٹائیں اور شہر کے مختلف حصوں کی امداد کا کام اپنے ذمہ لیں مگر اب تک اس طرف توجہ نہیں ہوتی۔اب خدام الاحمد نے میری ہدایت سے سردست ایک ہزار آدمی کے لئے ریلیف کی ذمہ داری تین ماہ کے لئے لی ہے۔ارادہ ہے کہ مسامان میسر آجائے تو سال بھر کے لئے اس ذمہ داری کو ادا کیا جائے گا اور اگر جماعت کا تعاون زیادہ ہو تو ایک ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ دو ہزار یا اس سے بھی