تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 627
411 م ملی جودو کی ایمان فروز نفرین شوکت۔متحدہ ہندوستان کے اس یادگار جلسہ میں حضرت مصلح موجود نے چھارا ہم تقامہ پر فرمائیں:۔پیشگوئی اور جماعت احمدیہ کو فیتی نصائح (1) افتاحی خطاب : حضور نه ور می را کب کا (۱) نے فتح کی افتتاحی تقریر یں نہایت پر شوکت الفاظ میں پیشن گوئی فرمائی :- عیسائیت نے سراٹھایا اور ایک لمبے عرصہ تک اپنے حکومت کی مگر اب عیسائیت کی حکومت اور اس کے غلبہ کا خاتمہ ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ عیسائیت کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا کا بھی خاتمہ ہو جائے تا وہ کہہ سکیں کہ دنیا پہ جو آخری جھنڈا لہرایادہ عیسائیت کا تھا مگر ہمارا اخدا اس امر کو برداشت نہیں کہ سکتا۔ہمارا خدا یہ پسند نہیں کہ تا کہ دنیا پر آخری جھنڈا عیسائیت کا ہرایا جائے۔دنیا میں آخری جھنڈ امحمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمہ کا گاڑا جائے گا۔اور یقینا یہ دنیا تباہ نہیں ہوگی بینک محورسول صلی علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا پر اپنی پوری شان کے ساتھ نہیں لہرائے گا " ہے (۲) خواتین سے خطاب : فتح جمبر کو قبل از ظہر حضرت مصلح موعود کا خواتین میں لیکچر ہوا میں نمونے انہیں ہدایت فرمائی کہ:۔لجنات بنائی جائیں پھر تعلیم کا انتظام کیا جائے۔اپنی تنظیم کرد اگر تم صیح طور پر لکھنا پڑھنا سیکھو لنگی تو اپنے علاقہ میں آسانی سے تبلیغ کر سکو گی اس کے بعد تم دیکھو گی کہ جماعت کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں گئے بڑھ جائے گی ہی سے :- به (۳) سال کے اہم واقعات پر مفصل تبصرہ : نماز جمع کے بعد حضور مردانہ جلسہ گاہ میں رونق افروز ہوئے اور سال گذشتہ کے اہم دانتا است پر محرک الا را تقریر فرمائی میں تیر کبیر انگریز کی قرآن کریم، تراجم قرآن تحریک جدید در اسکی بیرونی مشینوں ، فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور دیہاتی مبلغین کی سکیم پر مفصل روشنی ڈالی اور جماعت احمدیہ سے غیر معمول قربانیوں کا مطالبہ فرمایا۔کے اس تقریر پر اخبار زمزم" لاہور نے اپنی مہر جنوری شکر کی اشاعت میں عمل اور نقوی کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ لکھا : مرزا صاحب قادیانی کے جانشین مرزا محمود احمد صا ن نے اپنے سالانہ جلسے پر نظریہ کرتے ہوئے بین اہم امور پر -- اتفضل ۲ فتح ۳۲۵ه پیش ما کالم ! :: ه الفضل ۲۸ فتح الفضل و ر صلح ۳۲۷ به پیش همه کانه ۶۳