تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 624
استان آخری م تجمع خدام الاحمادة 10 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ر ا اور اکتوبر کو ملی خادم ان حدید کا آٹھواں سالانہ اجتماع محلہ دار الشکر کے وسیع میدان میں میں حضر مصلح موعود کی روح پرور تقریر۔ہوگا جس میں بیرونی مقامات سے 10 اقدام آئے اور ۱۳۲ مجالس مقامی اور اور مجالس بیرون نے شرکت کی۔یہ اجتماع متحدہ ہندوستان کا آخری اجتماع تھا۔جس کا اختتام حمر مصلح موعود کے روح پر در خطاب سے ہوا حضور نے اپنے خطاب میں نہایت شریح دلبسط سے اس اس کی طرف خدام کو تو بھائی کو انی مسائلا طاقی اور صلاحیتی کام اور صرف کام کے لئے وقف کر دیں اور اپنے خیالات و افکار اور کردار میں ایسی پاک تبدیلی پیدا کریں کہ اسلام کانمونہ بن جائیں کیونکہ دنیا میں کے چہروں سے اس نور کو مشاہدہ کر نا چاہتی ہے جس کے لئے وہ سرگرداں ہے۔وہ ان کے قلوب میں سے نکلی ہوئی تسکین کی دہ شعاعیں دیکھنا چاہتی ہے جو گناہوں کی آگ کو بالکل سرد کردی ہے وقت کی کال اطاعت نیکی کی ہدایت ریا اور ایک فریب می خوری کی صورت دکھ ہے تھے کہ بعض مرکزی اور اریسے ایک دوسرے سے عدم تعاون جبکہ رقابت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔چونکہ اس طریق سے تصور کی جاری فرمودہ تحریکات کو براہ راست نقصان پہنچنے کا اندیشید ۱۳۲۵ تھا۔اس لئے حضرت مصلح موعود نے خطبہ حجتہ (۲۵ ماه امام راکتو بر رمیش میں جماعت کو انتباہ کیا اور فرمایا:- ہمارے پر ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ کام کبھی سرانجام نہیں دیا جا سکتا جب تک به شخص اپنی جان اس راہ میں نظرانہ دے۔پس تم میں سے ہر شخص خود دنیا کاکوئی کام کر رہا ہو اگر وہ اپنا سارا زور اس غرض کے لئے صرف نہیں کردیتا، اگر خلیفہ وقت کے حکم پر ہر احدی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار نہیں رہتا۔اگر اطاعت اور فرمانبرداری اور قربانی اور اشیا ر ہر وقت اس کے سامنے نہیں رہتا۔تو اس وقت تک نہ ہماری جماعت تمرینی کر سکتی ہے اور نہ وہ اشخاص مریمتوں میں لکھے بھا سکتے ہیں۔یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالی کے قائم کر دہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔اگر اسلام اور ایمان اس چیز کا نام ہ ہوتا تو ولی الا علیہ وسلم کے ہوتے کسی مسیح کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن اگر محد صل اللہ علیہ وسلم کے ہوتے مسیح عود کی ضرورت تھی تو صحیح یاد کے ہوتے ہماری بھی ضرورت ہے۔ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح و خود پر ایمان لاتا ہوں۔ہزار دفعہ کوئی کہنے کہ میں حدیث پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اسکی ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی۔جب تک دہ اُس شخص کے ہاتھ میں پناہاتھ نہیں دنیا کسی ذریعہ خدا اس زمانہ میں سلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص ور مفصل تقریر کے لئے ملاحظم ہوا الفضل بر نبوت نو بر ماه پیش ما تاب