تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 619
ٹاکٹر فضل کریم صاحب اور ڈاکٹر اعظم علی صاحب پر مشتمل تھا۔ہے پہلے احمدی طبی نہار نے بہار میں پہنچتے ہی اپنی خدمات ضلع مسلم لیگ مونگیر کے سپرد کر دیں اور انہیں تارا پور اور کھڑاک پور وغیرہ کے ان علاقوں میں متعین کیا گیا جو ہے زیادہ تباہ شدہ تھے۔احمدی ڈاکٹروں نے نہایت محنت اور ہمدردی سے قریبا آٹھ سور بعضوں کا علاج کیا۔تارا اور کیمپ میں راشن کی تقسیم کا انتظام کانگرسی یرضا کاروں کے ہاتھ میں تھا۔احد یہ ہند کی کوشش سے مسلم لیگی نمائندوں کو بھی نگرانی کی اجازت مل گئی۔قبل ازیں پناہ گنز میوں کو چاول اور مکی ملتی تھی۔اب دال بھی میسر آنے لگی۔دودھ کی تقسیم کا انتظام پہلے کی نسبت بہت تسلی بخش ہو گیا۔اس طرح آخر نومبر سے پہلے خیموں کا انتظام نہ تھا۔اب نیچے آنے شروع ہو گئے۔اور ان میں روشنی کا انتظام بھی ہو گیا۔احمدیہ طبی وند نے تارا پور کیمپ کے علاوہ نمازی پورداد را درین میں بھی وسیع پیمانہ پر امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔اور مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے دن رات ایک کر دیا۔اور نمازی پور، بھاگل پور، مونگیر، ادرین ، سورج گڑھ اور پٹنہ میں مستحقین کی روپیہ سے بھی امداد کی۔حمدیہ ملتی وفد کی ان طبی خدمات کو صدر نہ تھی ضلع لم لیگ اور کنٹر اور من گھیر ڈسٹرکٹ مینرال ریلی ڈائرکٹرند - دونوں نے بہت سراہا اور بطور شکریہ امیر و فر مینوی برکات احمد صاحب کہ حسب ذیل خط لکھے :۔(1) از دفتر ضلع مسلم لیگ - مونگیر - ۶ دسمبر تشنہ۔پیارے محترم : آپ نے اور آپ کی " پارٹی نے اس ضلع کے مختلف کیمپوں میں پناہ گزینوں کے ساتھ جو قابل ستائش خدمات سرانجام دی۔: بقيه حاشیه :- کردئے۔اور ایک آدھی بندوق بھی تھی مگر شاخوں کی آواز کو شنکر ہجوم اس طرف جو است نہ کر سکا۔صرف ایک نوجوان تمہارا شہید ہوا تھا۔جس مقام پر وہ بے چارا گرا تھا وہ ہم نے بجا کر دیکھی اور دعا کی۔کچھ مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہم نے اُس علاقہ کا ذرہ میں کیا تھا۔ارد گرہ کے گاؤں کے گاؤں ظالموں نے تباہ کر دیئے تھے اور عورتوں اور بچوں کو مکانوں میں بند کر کے آگئیں لگا دی تھیں اور لاشوں کو بالوں سے کھینچے کھینچے کو کنڈوں میں ڈال دیا گیا۔کنوؤں کے اندر سے ابھی تک بد بو آرہی تھی اور امدادگر کا ساندہ علاقہ ہڈیوں ، پنجیروں اور کھر پر یوں سے کاٹا پڑا تھا۔سنا گیا کہ ایک اور جگہ عورتوں اور بچوں کو کہا گیا کہ تمہارے - تو مر گئے ہیں علو ہم تمہیں حفاظت کی جگہ لے جائیں۔باہر جا کے اُن کے سروں پر چٹائیاں ڈال دی گئیں اور مٹی کا تیل ڈال کر آگئیں لگادی گئیں۔غرضیکہ ہمارا تو دل داللہ غیرت اور ڈکو سے بھر گیا اور مسلمانوں کی اس لیے کیسی اور تباہی پر روتا رہے گا ه الفضل در تبلیغ ه ش مه من