تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 609
۵۹۴ لایا میں چینیوں کو زبردستی ٹھونسا جارہا ہے۔ہندوستان سے چل کر ایران۔پھر فلسطین - مصر- انڈونیشیا ان سارے ہی علاقوں میں مسلمان سخت خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔پس تمام دوستوں کو چاہیئے ان دنوں خاص طور پر دعائیں کریں۔دوسرے مسلمانوں کو بھی تحریک کرنی چاہیئے کہ وہ بھی دعاؤں میں لگ جائیں۔سوائے اس کے مسلمانوں کے لئے کوئی چارہ نہیں لے لی میں حضر میل مود کی دینی فیات ایمان لایا اور ان کا ستارا را در اکتوبر ه بیش ) سفر د ہی اختیا کہ فرمایا جس کی سیاسی تفصیلات تیسرے باب میں آچکی ہیں۔اس موقعہ پر قیام دہلی کے دوران حضور کی بعض اہم دینی مصروفیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود کا قیام کوٹھی ہمہ یارک روڈ میں تھا۔جہاں حضور روزانہ مغرب و عشاء کی نماز کے بعد مجلس علم و عرفان میں رونق افر نہ ہوتے تھے اور احمدی غیر احمدی بلکہ غیرمسلم بھی بکثرت حضور کی مجلس میں حاضر ہوتے اور استفادہ کرتے تھے۔قیام دہلی کے دوران حضور نے مسئلہ دعا موت کے بعد ردرج ، اسلامی عبادات اور چاند ، قدامت روح و مادہ ، ڈبوں کا گوشت ، معجزہ شق القمر ، حضرت صالح کی اونٹنی ، ملکہ سبا کا تخت ، احمدی نام موجود خلافت، قومی رسوم در دارج وغیرہ متعدد مسائل پر لطیف روشنی ڈالی۔حقائق و معارف کے اس سلسلہ کے علاوہ جو موٹا روزانہ ہی بار تھا اور جو سر چشمہ ہدایت تھا۔حضور نے مسجد احمدی دریا گنج میں تین خطبات جمعہ بھی دیئے۔جن میں دہلی کی جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جماعت احمدیہ کے جملہ افراد کو یہ فرض یاد دلایا کہ وہ دنیا کی ہرقوم اور ہر فرد کو مخاطب کرے کیے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے خصوصیت سے دعاؤں میں لگ جائے گی۔دہلی میں حضور کی تین خاص تقریر یں بھی ہوئیں۔۱۳۹ بوک اتمی کا نام احمدیہ دہی کے جلسہ میں تقریر فرمئی اور انہیں اپنے اندر نیک تبدیلی تنظیم مضبوط بنانے۔دین کے لئے قربانی کرنے اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کی قیمتی نصائح سے نواز ا یکم اخا را اکتر جب کہ منصور نے وہلی کی احمدی خواتین سے خطاب فرمایا جس میں انہیں تبلیغ کرنے اور صحابیات کے نقش قدم پر چلنے کی پر زور صحت کی شیه ور اناء ر اکتوبر کو حضور نے اپنی فرودگاہ میں اس اہم موضوع پر لیکچر دیاکہ اسلام دنیا کی موجودہ بے چینی کاگیا الفضل در بوک استمبر مش مست کالم ۲۲ سے افضل اور اضاء ش که بیش ہ ؟ و الفضل ۱۲۸ انجاء ۱۳۲۵ ه ش : ۵۴:- افضل ۳۰ را خاء ۳۲۵ میشه وله الفضل مرا خاو ۳۳۵ پیش صاد ۲ مکمل تقریر کیلئے ملاحظ و الفضل ۱۹ را ا ء اکتو برای نمایش ماتان