تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 607
۵۹۲ جنب کلکتہ کے احمدیوں کے مالی نقصان کی اطلاع پہنچی تو حضور نے اپنے قلم سے لکھا : - الله قالی ان کے ساتھ ہوا اگر وہ بچے صبر اور توکل علی اللہ سے کام میں تو نقصان میں زور نہ ہو گا۔انشاء اللہ ترقی ملے گی۔چنانچہ خدا کے فضل سے ایسا ہی ہوا۔مصیبت اور انیل کے ان پر خطر ایام میں بھی احمدیوں نے دوسرے مصیبت زدوں کی ہر ملک اعداد کی چنانچہ میں پچھوں اور پھر خواتین کو فاز دہ علاقہ سے نکال کر ایک حدی کے گھر پناہ دی گئی۔اسی طرح ایک احمدی نے ایک سکھ فوجی افسر کو دمع اہل وعیال اور ایک ہندو کو ایک دن رات اپنے یہاں رکھا اور دوسرے روز بیضی اور معززین کی مدد سے ان کو ان کے گھروں تک بخیریت پہنچایا۔علاوہ ازیں احمدی دوست اپنے اپنے حلقہ میں حتی المقدور ہر مذہب وملت کے لوگوں کو تیرکن امداد دیتے رہے۔لے ماہ کے حمید رالی میں آتشزدگی ات کا یا اور اس جال میں ہیں یا اب کے دوران صوبائی جماعت احمدیہ بنگال کے دارالتبلیغ کو وجود بخشی از ار روڈ ڈھا کہ میں ہندو آبادی کی اکثریت کے درمیان واقع تھا کہ پہلے دیا گیا پھر ۱۲ تبوک استمبر کی شام کو نذر آتش کر دیا گیا جس سے مسجد حد یہ بالکل خاکستر ہوگی اور دارالتبلیغ کے چنہ حد کبھی بہت نقصان پہنچا دخترکا سامان ، دختری ریکارڈ بنگانی ترجمه قرآن کا مسودہ - افضل کے فائل اور بہت ساندذہبی لٹریچر با کل مل گیا۔صوبائی مرکز عارضی طور پر برہمن بڑی ضلع پڑھ میں منتقل کر دینا پڑا۔سے مسلمانان عالم کو بروقت آسمانی حضرت امیر مومنین اصلی او اور ایک خواب میں دکھایا گیا کہ امام کے لئے ایک بہت ہی نازک وقت آنے والا ہے اور مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتباہ اور متحار ہونے کی تحریک ان معاملات میں آپس میں اتحاد کہ میں جن میں اختلاف کرنے پر ان کا مذہب اور ان کا عقیدہ انہیں مجبور نہیں کرتا : اس الہی اشارہ پر حضور نے "الانذار" کے نام سے الفصل میں ایک مضمون پر دستسلم فرمایا جس میں نہایت تفصیل سے پوری خواب درج فرمائی پھر لکھا :- الفضل ، تبوک استمبر ریش هه و ۲۸ نبوت مشکلمه ش ها : ه: الفضل علیم الماء اکتو بر هست و ۲ را هنا برده ای پیش من