تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 589
۵۷۲ مدد کرنا چاہوں تو کیا میرا روپیہ قبول کیا جائے گا؟ میں نے کہا یقینا۔اس پر وہ بولے کہ میں سو روپیہ دینا چاہتا ہوئی۔ایک صبح جب وہ مجھ سے اُردو پڑھ رہے تھے تو باتوں باتوں میں آواگون کا ذکر چھڑ گیا کہنے لگے کہ آواگون کے مسئلہ کا میں قائل ہوں۔میں نے ایک مثال پیش کی کہ اگر ایک سپا ہی کوئی غلطی کرے اور اس کی پاداش میں اس کو سزادی جائے۔لیکن سزا دینے سے قبل آپ اگر اس کے دماغ کو سمرائز کر دیں کیونکہ لیفٹینٹ صاحب مهر نیم کے ماہر تھے، اور اس کی سزا بھگتنے کے بعد اگر آپ مسمریزم کا وہ اتراش کے دماغ سے دور کر دیں توکیا اس سپاہی کو سزا دنیا کوئی عقلمندی کی بات ہے یا اس کا کوئی معقول نتیجہ نکل سکتا ہے رکہنے لگے کہ نہیں ہیں نے کہا۔بیس یہی حالت آراگون کی ہے۔اگر کوئی شخص یہ جانتا کہ وہ پچھلے جنم میں کیا تھا اور کس گناہ یا نیکی کے بدلے میں موجودہ جو اختیار کی گئی ہے تو پر خداوند تعالی کا یہ حل درست تھا۔لیکن موجودہ صورت میں جبکہ کسی ذی روح کو اپنی گذشتہ جوں کی نیکی یا بدی کاکوئی علم نہیں۔خداوند تعالی کا یہ فعل عبث ٹھہرتا ہے۔وہ اسی وقت بول اُٹھے کہ ٹھیک ہے۔میں سمجھ گیا کہ آواگون کا مسئلہ غلط ہے۔ایک دفع آرڈر آیا کہ یور چین فوجی جو ہندوستان میں چھٹی گزارنا چاہتے ہیں وہ ۲۸ دن کی چھٹی پر ہندوستان جھا سکتے ہیں۔ایک دن لیفٹینٹ صاحب دفتر میں میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں ہندوستان چھٹی جا رہا ہوں میں نے دریافت کیا کہ ہندوستان میں چھٹی کہاں گزاریں گے پاکہنے لگے کہ میرا ایک ہندو دوست ہے۔وہ ڈوگرہ رجمنٹ میں لیفٹیننٹ ہے اور خریر میں رہتا ہے اسکی مکان پر۔میں نے کہا یہ تو بہت اچھا موقع ہے آپ قادیان بھی دیکھتے آئیں یہ مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔دوسرے دن صبح جب میں انہیں پڑھانے گیا تو اسی وقت پھر قادیان کا تذکرہ ہوا۔کہنے لگے کہ مروجہ سے قادیان تک کا اگر فرسٹ کلاس کا کرایہ دلوا و تومیں چلی جاؤں میں نے کہا کہ آپ ریلوے کا پاس بجائے ترجمہ کے قادیان تک کا برا ئیں۔کہنے لگے وہ تواب تیا ر ہو چکا ہے۔میں نے کہا کہ میں اسے منسوخ کروا کے دوسرا نبود دونگا۔بولے کہ میں کسی کویہ بتانا بھی نہیں چاہتاکہ میں قادیان جا ر ہا ہوں۔یکی نے عرض کیا کہ اچھا پھر وہ سو روپیہ جو آ انجمن احمدیہ کو دے رہے تھے آپ اس میں سے ٹکٹ خرید لیں اس پر ہفتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم رو پیر دنیا نہیں چاہتے۔پھر انہوں نے دریافت کیا کہ قادیان میں میرے ٹھہرنے کا کیا بندوبست ہوگا۔میں نے جواب دیا کہ اگر آپ دیسی رہائش اور دیسی کھانا پسند ریں تو مفتی محمد صادق صاحب کے مکان پر شہر نے کا بندوبست ہوجائیگا اور اگر آپ انگریزی کھانا اور رہائش ے وہی کے پاس ایک قصیدہ حضرت